Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ، بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الآخَرِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سُفْيَانُ وَسَمِعْتُ أَيْضًا، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَزَادَ، أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا فَقُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ . فَقُمْتُ فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً ثُمَّ قَالَ لِي عُدَّهَا . فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ فَقَالَ خُذْ مِثْلَيْهَا .
English Translation
Hadrat Jabir b. Hadrat 'Abdullah reported Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) as saying:In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) departed this world before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Hadrat Abu Bakr after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Hadrat Abu Bakr took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you
Urdu Translation
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ( اسی طرح ) سفیان نے ابن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز عمرو سے روایت ہے ، انھوں نے محمد بن علی سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ انھی کے ہیں ۔ کہا : سفیان نے کہا : میں نے محمد بن منکدر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت جابر بن اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، سفیان نے یہ بھی کہا : میں نے عمرو بن دینار سے سنا ، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔ ان دونوں میں سے ( بھی ) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ( یعنی تین لپ بھر کر ) ۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گئی ۔ وہ مال سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لئے حکم دیا کہ جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو ، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے ۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا ، اتنا اور اتنا دیں گے ۔ یہ سن کر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن ۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے ( تو تین لپ ہو گئے ) ۔
