Arabic (Original)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا - ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ - أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جَاءَهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ قَالَ " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي " . فَقَالُوا لَهَا أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا فَقَالَتْ لاَ . فَقَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ سَهْلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ " اسْقِنَا " . لِسَهْلٍ قَالَ فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ . قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِيهِ قَالَ ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَوَهَبَهُ لَهُ . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ " اسْقِنَا يَا سَهْلُ " .
English Translation
Hadrat Sahl b. Sa'd reported:An Arab woman was mentioned before Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). He commanded Abu Usaid to send a message to her and he (accordingly) sent a message to her. She came and stayed in the fortresses of Banu Sa'idah. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) went out until he came to her while she was (at that time) sitting with her head downcast. When Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) talked to her, she said: I seek refuge with Allah from you. Thereupon he said: I (have decided to) keep you away from me. They (the people near her) said: Do you know who he is? She said: No. They said: He is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He came to you in order to give you the proposal of marriage. She said: Then I am the most unfortunate woman because of this (i. e. my defiance). Hadrat Sahl said: Allah's. Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) then set forth on that day until he sat in the Saqifa of Banu Sa'idah along with his Companions. He then said to Hadrat Sahl: Serve us drink. He (Hadrat Sahl) said: I brought out for them this bowl (containing drink) and served them this. Abu Hazim said: Hadrat Sahl brought out this cup for us and we also drank from that. Then 'Umar b. 'Abd al-'Aziz asked him to give that (cup) as a gift to him and he gave (it to) him as a gift. In the narration of Hadrat Abu Bakr b. Ishaq (the words) are:" Hadrat Sahl, serve us drink
Urdu Translation
محمد بن سہل تیمی اور حضرت ابو بکر بن اسحٰق نے کہا : ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو غسان محمد بن مطرف نے بتا یا کہ مجھے ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا ۔ ( اس کے والد نعمان بن ابی الجون کندی نے پیش کش کی ) آپ نے ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : کہ اس ( عورت کولا نے کے لیے اس ) کی طرف سواری وغیرہ بھیجیں ۔ تو انھوں ( حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بھیج دی وہ عورت آئی بنو ساعدہ کے قلعہ نما مکانات میں ٹھہری رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم گھر سے روانہ ہو کر اس کے پاس تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکا ئے ہو ئے تھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس سے بات کی تو وہ کہنے لگی : میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا : " میں نے تمھیں خود سے پناہ دے دی ۔ " لوگوں نے اس سے کہا : کیا تم جا نتی ہو یہ کو ن ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں انھوں نے کہا : یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تھے اور تمھیں نکا ح کا پیغا م دینے تمھا رے پاس آئے تھے ۔ اس نے کہا : میں اس سے کم تر نصیب والی تھی ۔ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا ئے آپ خود اور آپ کے ساتھ بنو ساعدہ کے چھت والے چبوترے پر تشریف فرما ہو ئے پھر سہل پانی پلا ؤ " کہا : میں نے ان کے لیے وہی پیا لہ ( نما برتن ) نکا لا اور اس میں آپ کو پلا یا ۔ ابو حازم نے کہا : سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکالا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا ، پھر عمر بن عبد العزیز نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ پیا لہ بطور ہبہ مانگ لیا ۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ پیا لہ ان کو ہبہ کر دیا ۔ حضرت ابو بکر بن اسحاق کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا : " سہل!ہمیں ( کچھ ) پلا ؤ ۔
