It is reported on the authority of Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) that when this verse was revealed: 'And warn your nearest kindred — (especially) the sincere ones of your family' — the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) set off till he climbed Safa' and called loudly: 'Be on your guard!' They said: Who is it calling aloud? They said: Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him). They gathered round him, and he stated: 'O sons of so and so! O sons of so and so! O so and so! O so and so! If I were to inform you that horsemen (of the enemy) are behind this hill ready to attack you, would you believe me?' They said: We have never heard you tell a lie. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Then I am a warner to you of a severe punishment ahead.' Abu Lahab said: May you perish! Is it for this that you gathered us? Then Allah, the Exalted, revealed: 'May the hands of Abu Lahab perish, and may he perish!'
Urdu Translation
ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری: ''اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے'' (خاص کر) اپنے خاندان کے مخلص لوگوں کو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (گھر سے) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر فرمایا: ''وائے اس کی صبح (کی تباہی)!'' (سب ایک دوسرے سے) پوچھنے لگے: یہ کون پکار رہا ہے؟ کہا: محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)۔ لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے فلاں! اے فلاں! اگر میں تمہیں بتاؤں کہ گھوڑ سوار (دشمن) اس پہاڑ کے پیچھے سے تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟'' لوگوں نے کہا: ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''تو میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔'' ابو لہب نے کہا: تیرا ستیا ناس ہو! کیا اسی لیے ہمیں جمع کیا؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ''ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں اور وہ تباہ ہو!''
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (10)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ " يَا صَبَاحَاهْ ". فَقَالُوا مَنْ هَذَا، فَا…
Sahih al-Bukhari
لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ} صَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي " يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ ". لِبُطُونِ قُرَيْشٍ حَتَّى اجْتَمَعُوا، فَجَع…
It is reported on the authority of Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) that when this verse was revealed: 'And warn your nearest kindred — (especially) the sincere ones of your family' — the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) set off till he climbed Safa' and called loudly: 'Be on your guard!' They said: Who is it calling aloud? They said: Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him). They gathered round him, and he stated: 'O sons of so and so! O sons of so and so! O so and so! O so and so! If I were to inform you that horsemen (of the enemy) are behind this hill ready to attack you, would you believe me?' They said: We have never heard you tell a lie. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Then I am a warner to you of a severe punishment ahead.' Abu Lahab said: May you perish! Is it for this that you gathered us? Then Allah, the Exalted, revealed: 'May the hands of Abu Lahab perish, and may he perish!'
ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری: ''اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے'' (خاص کر) اپنے خاندان کے مخلص لوگوں کو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (گھر سے) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر فرمایا: ''وائے اس کی صبح (کی تباہی)!'' (سب ایک دوسرے سے) پوچھنے لگے: یہ کون پکار رہا ہے؟ کہا: محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)۔ لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے فلاں! اے فلاں! اگر میں تمہیں بتاؤں کہ گھوڑ سوار (دشمن) اس پہاڑ کے پیچھے سے تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟'' لوگوں نے کہا: ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''تو میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔'' ابو لہب نے کہا: تیرا ستیا ناس ہو! کیا اسی لیے ہمیں جمع کیا؟ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ''ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹیں اور وہ تباہ ہو!''