Arabic (Original)
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ وَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " . ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ فَهَلْ عَلَىَّ حَرَجٌ مِنْ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا فَقَالَ لَهَا " لاَ إِلاَّ بِالْمَعْرُوفِ " .
English Translation
Hadrat A'isha reported that Hind, daughter of Utba h. Rabi', came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and said:the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), by Allah, there was no household upon the surface of the earth than your household about which I cherished that it should be disgraced. But today there is no household on the surface of the earth than your household about which I cherish that it be honoured Thereupon Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated. It will increase, by Him in Whose Hand is my life. She then said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), Abu Sufyan is a niggardly person; is there any harm for me if I spend out of that which belongs to him on our children? He said to her: No, but only that what is reasonable
Urdu Translation
زہری کے بھتیجے نے ہمیں اپنے چچا سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عروہ بن حضرت زبیر نے خبر دی کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہند بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور کہنے لگیں : اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کسی گھرانے کے بارے میں مجھے زیادہ محبوب نہیں تھا کہ وہ ذلیل ہو اور آج روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کوئی گھرانہ مجھے محبوب نہیں کہ وہ باعزت ہو ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اور بھی ( اس محبت میں اضافہ ہو گا ۔ ) " پھر انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! حضرت ابوسفیان بخیل آدمی ہیں تو کیا ( اس بات میں ) مجھ پر کوئی حرج ہے کہ میں ، جو کچھ اس کا ہے ، اس میں سے اپنے بچوں ( گھر والوں ) کو کھلاؤں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : " نہیں ، مگر دستور کے مطابق کھلاؤ
