Arabic (Original)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي، عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ عَتَقَتْ وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدُمٍ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ فَقَالَ " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ " . فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ . فَقَالَ " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ " . وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِيهَا " إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
English Translation
Hadrat A'isha (Allah be pleased with her). the wife of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated:Three are the Sunan (usages) (that we came to know in case of Bairara). She was given option in regard to her husband when she was emancipated. Sbe was given meat as charity. the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (way (blessings and peace of Allah be upon him)) visited me when an earthen pot with meat in it was placed on the fire. He asked for food and be was given bread with ordinary meat (usually cooked in the) house. Thereupon he (the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)) said: Don't I see the earthen pot on fire with meat in it? They said: Yes. the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), there is meat in it which was given as charity to Barira. We did not deem it advisable that we should give you that to eat, whereupon he said: It is charity for her, but it is gift for us. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) also said: The right of inheritance vests with one who emancipates
Urdu Translation
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے معاملے میں تین سنتیں ( متعین ) ہوئیں : جب وہ آزاد ہوئی تو اس کے شوہر کے حوالے سے اسے اختیار دیا گیا ۔ اسے گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو ہنڈیا چولھے پر تھی ، آپ نے کھانا طلب فرمایا تو آپ کو روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا ، آپ نے فرمایا : " کیا میں نے آگ پر چڑھی ہنڈیا نہیں دیکھی جس میں گوشت تھا؟ " گھر والوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! وہ گوشت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا تو ہمیں اچھا نہ لگا کہ ہم آپ کو اس میں سے کھلائیں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرایا : " وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔ " نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسی ( بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے بارے میں فرمایا تھا : " حقِ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا
