Sahih MuslimThe Book of Mosques and Places of Prayer#1496Sahih
Arabic (Original)
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى . فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكِ " . قَالَ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ - قَالَ - وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ - قَالَ - فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ أَلاَ تَرَاهُ قَدْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ " . قَالَ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ - وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ - عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ .
English Translation
Hadrat Harmalah ibn Yahya al-Tujibi narrated to me, he said: Ibn Wahb informed us, he said: Yunus informed me from Ibn Shihab that Mahmud ibn al-Rabi' al-Ansari (may Allah be well pleased with him) narrated to him that Hadrat 'Itban ibn Malik (may Allah be well pleased with him) — who was one of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), among the Ansar who participated in the Battle of Badr — (narrated) that he came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and said: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have lost my eyesight and I lead my people in prayer. When there is a downpour, there is a current of water in the valley that stands between me and them, and I cannot reach their mosque to lead them in prayer. O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I wish that you would come and pray at a place of worship (in my house), so that I may take it as a permanent place of worship. He said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'I shall do so, if Allah wills.' Hadrat 'Itban (may Allah be well pleased with him) said: The next morning, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) came when the day had risen. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sought permission to enter, and I granted it. He did not sit down until he entered the inner part of the house, then he said: 'Where in your house do you wish me to pray?' I pointed to a corner of the house. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and pronounced the Takbir (Allah is the Greatest), and we stood behind him. He prayed two rak'ahs and then pronounced the salutation. We then detained him for khazir (a meat broth dish) that we had prepared for him. (Hadrat 'Itban, may Allah be well pleased with him, said:) The neighbours from around the area came until a good number of men gathered in the house. One of them said: Where is Malik ibn al-Dukhshun? Some of them said: He is a hypocrite; he does not love Allah and His Messenger. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Do not say that about him. Do you not see that he has said La ilaha ill-Allah (There is no god but Allah), seeking the pleasure of Allah through it?' They said: Allah and His Messenger know best. One (of them) said: We only see his inclination and well-wishing directed towards the hypocrites. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Verily Allah has forbidden the Fire for one who says La ilaha ill-Allah, thereby seeking the pleasure of Allah.' Ibn Shihab said: I later asked Husayn ibn Muhammad al-Ansari — who was one of the Banu Salim and one of their leaders — about the hadith of Mahmud ibn al-Rabi' (may Allah be well pleased with him), and he confirmed it.
Urdu Translation
حرملہ بن یحییٰ تجیبی نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ — جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے — (نے بیان کیا) کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! میری نظر خراب ہو گئی ہے، میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والی وادی میں سیلاب آ جاتا ہے، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انھیں نماز پڑھاؤں، تو یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ (میرے گھر) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو (مستقل طور پر) جائے نماز بنا لوں۔ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا۔'' حضرت عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت طلب فرمائی، میں نے تشریف آوری کا عرض کیا، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر (کے حصے میں) داخل ہوئے، پھر فرمایا: ''تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں (وہاں) نماز پڑھوں؟'' میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر (تحریمہ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر (گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھانے) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ (حضرت عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) فرمایا: (آپ کی آمد سن کر) اردگرد سے محلے کے لوگ آ گئے حتی کہ گھر میں خاصی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''اس کے بارے میں ایسا نہ کہو، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لا الہ الا اللہ کہا ہے؟'' (حضرت عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) فرمایا: تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس (الزام لگانے والے) نے کہا: ہم تو اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لیے دیکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لا الہ الا اللہ کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔'' ابن شہاب نے کہا: میں نے (بعد میں) حصین بن محمد انصاری سے — جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے سرداروں میں سے ہیں — محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس میں ان (محمود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی تصدیق کی۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى . فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكِ " . قَالَ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ - قَالَ - وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ - قَالَ - فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ أَلاَ تَرَاهُ قَدْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ " . قَالَ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ - وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ - عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ .
Hadrat Harmalah ibn Yahya al-Tujibi narrated to me, he said: Ibn Wahb informed us, he said: Yunus informed me from Ibn Shihab that Mahmud ibn al-Rabi' al-Ansari (may Allah be well pleased with him) narrated to him that Hadrat 'Itban ibn Malik (may Allah be well pleased with him) — who was one of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), among the Ansar who participated in the Battle of Badr — (narrated) that he came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and said: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have lost my eyesight and I lead my people in prayer. When there is a downpour, there is a current of water in the valley that stands between me and them, and I cannot reach their mosque to lead them in prayer. O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I wish that you would come and pray at a place of worship (in my house), so that I may take it as a permanent place of worship. He said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'I shall do so, if Allah wills.' Hadrat 'Itban (may Allah be well pleased with him) said: The next morning, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) came when the day had risen. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sought permission to enter, and I granted it. He did not sit down until he entered the inner part of the house, then he said: 'Where in your house do you wish me to pray?' I pointed to a corner of the house. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and pronounced the Takbir (Allah is the Greatest), and we stood behind him. He prayed two rak'ahs and then pronounced the salutation. We then detained him for khazir (a meat broth dish) that we had prepared for him. (Hadrat 'Itban, may Allah be well pleased with him, said:) The neighbours from around the area came until a good number of men gathered in the house. One of them said: Where is Malik ibn al-Dukhshun? Some of them said: He is a hypocrite; he does not love Allah and His Messenger. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Do not say that about him. Do you not see that he has said La ilaha ill-Allah (There is no god but Allah), seeking the pleasure of Allah through it?' They said: Allah and His Messenger know best. One (of them) said: We only see his inclination and well-wishing directed towards the hypocrites. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Verily Allah has forbidden the Fire for one who says La ilaha ill-Allah, thereby seeking the pleasure of Allah.' Ibn Shihab said: I later asked Husayn ibn Muhammad al-Ansari — who was one of the Banu Salim and one of their leaders — about the hadith of Mahmud ibn al-Rabi' (may Allah be well pleased with him), and he confirmed it.
حرملہ بن یحییٰ تجیبی نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ — جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے — (نے بیان کیا) کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! میری نظر خراب ہو گئی ہے، میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والی وادی میں سیلاب آ جاتا ہے، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انھیں نماز پڑھاؤں، تو یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ (میرے گھر) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو (مستقل طور پر) جائے نماز بنا لوں۔ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا۔'' حضرت عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت طلب فرمائی، میں نے تشریف آوری کا عرض کیا، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر (کے حصے میں) داخل ہوئے، پھر فرمایا: ''تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں (وہاں) نماز پڑھوں؟'' میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر (تحریمہ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر (گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھانے) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ (حضرت عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) فرمایا: (آپ کی آمد سن کر) اردگرد سے محلے کے لوگ آ گئے حتی کہ گھر میں خاصی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''اس کے بارے میں ایسا نہ کہو، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لا الہ الا اللہ کہا ہے؟'' (حضرت عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) فرمایا: تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس (الزام لگانے والے) نے کہا: ہم تو اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لیے دیکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لا الہ الا اللہ کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔'' ابن شہاب نے کہا: میں نے (بعد میں) حصین بن محمد انصاری سے — جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے سرداروں میں سے ہیں — محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس میں ان (محمود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی تصدیق کی۔