Arabic (Original)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟»قَالُوا: بَلَى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟»قَالُوا: بَلَى قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ». فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كلَّ مُؤمن ومؤمنة. رَوَاهُ أَحْمد
English Translation
Al-Bara' ibn 'Azib and Zayd ibn Arqam (may Allah be pleased with them) reported that when the Messenger of Allah (peace be upon him) stopped at Ghadir Khumm, he took 'Ali's hand and said: "Do you not know that I have more authority over the believers than they have over themselves?" They said: "Yes." He said: "Do you not know that I have more authority over every believer than he has over himself?" They said: "Yes." He said: "O Allah, whoever I am his master, then 'Ali is his master. O Allah, befriend whoever befriends him and be an enemy to whoever is his enemy." Then 'Umar met him after that and said to him: "Congratulations, O son of Abu Talib! You have become the master of every believing man and woman." Reported by Ahmad.
Urdu Translation
براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:”کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے؟“انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور ہے، پھر فرمایا:”کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے؟“انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں! ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اے اللہ! میں جس شخص کا دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں، اے اللہ! جو شخص اس کو دوست بنائے تو اسے دوست بنا، اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو انہیں دشمن بنا۔“اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ علی سے ملے تو انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو آپ صبح و شام (ہر وقت) ہر مومن اور ہر مومنہ کے دوست بن گئے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6103]
