Arabic (Original)
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كنتُ نذرت إِن ردك الله سالما أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا»فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
English Translation
Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (peace be upon him) said: "Shall I not tell you about the greatest of major sins?" three times. They said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Associating partners with Allah and disobedience to parents." He was reclining, then he sat up and said: "And false speech and false testimony." He kept repeating it until we wished he would stop. Agreed upon.
Urdu Translation
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو ایک سیاہ فام عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور غزل پڑھوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا:”اگر تو نے نذر مانی تھی تو پھر دف بجا لے اور اگر نذر نہیں مانی تو پھر نہیں۔“وہ بجانے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، وہ (ان کے آنے پر) بجاتی رہی، پھر علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ بجاتی رہی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو وہ بجاتی رہی، پھر عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اس نے دف اپنے سرین کے نیچے رکھ لی اور اس پر بیٹھ گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ دف بجاتی رہی، ابوبکر آئے تو وہ بجاتی رہی، پھر علی آئے تو وہ بجاتی رہی، پھر عثمان آئے تو وہ بجاتی رہی، عمر جب تم آئے تو اس نے دف پھینک دی۔“ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6048]
