Arabic (Original)
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ يَقُولُ: «أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ»فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِيَ امْرَأَتِهِ فَأَجَابَ وَنَحْنُ مَعَه وَجِيء بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَكَلُوا فَنَظَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يلوك لقْمَة فِي فَمه ثُمَّ قَالَ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى النَّقِيعِ وَهُوَ مَوْضِعٌ يُبَاعُ فِيهِ الْغَنَمُ لِيُشْتَرَى لِي شَاةٌ فَلَمْ تُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاة أَن أرسل إِلَيّ بهَا بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمِي هَذَا الطَّعَامَ الْأَسْرَى»رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ
English Translation
'Asim ibn Kulayb narrated from his father, from a man of the Ansar who said: We went out with the Messenger of Allah (peace be upon him) for a funeral. I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) at the grave, instructing the digger, saying, "Widen it from the side of his feet, widen it from the side of his head." When he returned, a messenger from the deceased's wife invited him, and he accepted. We were with him. Food was brought, and he placed his hand in it, then the people placed their hands and ate. We watched the Messenger of Allah (peace be upon him) chewing a morsel in his mouth. Then he said, "I detect the meat of a sheep that was taken without its owner's permission." The woman sent word saying, "O Messenger of Allah, I sent someone to buy a sheep from the market but none was available, so I sent to my neighbor who had bought a sheep, to sell it to me. He was not home, so I sent to his wife, who sent it to me." The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Feed it to the prisoners." Narrated by Abu Dawud.
Urdu Translation
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار میں سے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قبر پر گورکن کو ہدایات دیتے ہوئے سنا:”اس کے پاؤں کی جانب سے کھلی کرو، اس کے سر کی جانب سے کھلی کرو۔“جب آپ واپس آئے تو اس (میت) کی عورت کی طرف سے دعوت کا پیغام دینے والا آپ کو ملا تو آپ نے دعوت قبول فرمائی اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے، کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، پھر لوگوں نے (ہاتھ) بڑھایا، انہوں نے کھانا کھایا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے منہ میں لقمہ چباتے ہوئے فرمایا:”میں ایک ایسی بکری کا گوشت پاتا ہوں جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے۔“اس عورت نے اپنے وضاحتی پیغام میں عرض کیا، اللہ کے رسول! میں نے نقیع کی طرف، جو کہ بکریوں کی خرید و فروخت کا مرکز ہے، آدمی بھیجا تھا تا کہ وہ میرے لیے ایک بکری خرید لائے، لیکن وہاں نہ ملی تو میں نے اپنے پڑوسی کی طرف بھیجا، اس نے ایک بکری خریدی ہوئی تھی، کہ وہ اس کی قیمت کے عوض اسے میری طرف بھیج دے، لیکن وہ (پڑوسی) نہ ملا تو میں نے اس عورت کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے اسے میری طرف بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔“اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی دلائل النبوۃ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5942]
