Arabic (Original)
وَعَنْ كَعْبٍ يَحْكِي عَنِ التَّوْرَاةِ قَالَ: نَجِدُ مَكْتُوبًا محمدٌ رسولُ الله عَبدِي الْمُخْتَار لَا فظٌّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَهِجْرَتُهُ بِطِيبَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ يَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي كُلِّ مَنْزِلَةٍ وَيُكَبِّرُونَهُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ رُعَاةٌ لِلشَّمْسِ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ إِذَا جَاءَ وَقْتُهَا يتأزَّرون على أَنْصَافهمْ ويتوضؤون عَلَى أَطْرَافِه مْ مُنَادِيهِمْ يُنَادِي فِي جَوِّ السَّمَاءِ صَفُّهُمْ فِي الْقِتَالِ وَصَفُّهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَوَاءٌ لَهُمْ بِاللَّيْلِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ «. هَذَا لَفْظُ»الْمَصَابِيحِ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مَعَ تَغْيِير يسير
English Translation
Ka'b (may Allah be pleased with him) narrated from the Torah, saying: We find written: Muhammad is the Messenger of Allah, My chosen servant. He is neither harsh nor severe, nor does he shout in the marketplaces. He does not repay evil with evil, but rather pardons and forgives. His birthplace is Makkah, his emigration is to Taybah (Madinah), and his kingdom is in Syria. His Ummah are those who praise abundantly; they praise Allah in prosperity and adversity. They praise Allah in every situation and glorify Him on every elevated place. They are guardians of the sun — they pray when the time of prayer comes. They wrap their lower garments to the middle of their legs, and they perform ablution on their limbs. Their caller calls from the heights. Their rows in battle and their rows in prayer are the same. At night they have a humming sound like the buzzing of bees. This is the wording of al-Masabih, and al-Darimi narrated it with slight variation.
Urdu Translation
کعب رضی اللہ عنہ تورات سے نقل کرتے ہیں کہ ہم تورات میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، میرے منتخب بندے ہیں، وہ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں، بلکہ وہ درگزر کرتے اور معاف کر دیتے ہیں، ان کی جائے پیدائش مکہ ہے، ان کی ہجرت طیبہ (مدینہ) کی طرف ہو گی، ان کی حکومت ملکِ شام میں ہو گی، ان کی امت بہت زیادہ حمد کرنے والی ہو گی، وہ خوشحالی و تنگدستی (ہر حال) میں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے، ہر بلند جگہ پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر بیان کریں گے، وہ (نمازوں کے اوقات کے لیے) سورج کا خیال رکھتے ہوں گے، جب نماز کا وقت ہو جائے گا تو وہ نماز پڑھیں گے، ان کا ازار نصف پنڈلیوں تک ہو گا، وہ اعضائے وضو تک وضو کریں گے، ان کا مؤذن بلند جگہ پر (کھڑا ہو کر) اذان دے گا، ان کی نماز کے دوران صفیں اور ان کی میدان جہاد میں صفیں برابر ہوں گی، اور رات کے وقت ان (تہجد کے وقت تسبیح و تہلیل) کی آواز اس طرح ہو گی جس طرح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے۔“یہ الفاظ مصابیح کے ہیں، اور امام دارمی نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5771]
