Arabic (Original)
وسُئل مَالك بن أَنسٍ عَن قَوْله تَعَالَى(إِلى ربِّها ناظرة)فَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ. فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلُهُ تَعَالَى:(كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبونَ)؟ قَالَ مَالِكٌ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكَفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ(كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبون)رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
English Translation
Malik ibn Anas was asked about the words of Allah Most High: "Looking at their Lord" (75:23). It was said: "Some people say it means: 'Looking at His reward.'" Malik said: "They have lied. Then what about the other verse: 'No! Indeed, from their Lord, that Day, they will be veiled' (83:15)? When the believers are veiled from Him in anger, the others will look at Him in pleasure." Narrated by al-Lalika'i in his book 'al-Sunnah.'
Urdu Translation
اور مالک بن انس ؒ سے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:”وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔“کے بارے میں پوچھا گیا، نیز انہیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ رب تعالیٰ کے ثواب کو دیکھنے والے ہوں گے، امام مالک ؒ نے فرمایا: انہوں نے جھوٹ کہا ہے، (اگر ایسے ہے) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:”ہرگز نہیں، بے شک وہ اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے۔“کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ امام مالک ؒ نے فرمایا: لوگ روز قیامت اپنی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کریں گے اور فرمایا: اگر مومن قیامت کے دن اپنے رب کا دیدار نہیں کریں گے تو پھر اللہ کافروں کو دیدار سے محرومی کی عار نہ دلاتا، فرمایا:”ہرگز نہیں، بے شک وہ (کافر لوگ) اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے۔“ضعیف، رواہ فی شرح السنہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5663]
