Arabic (Original)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ كَذَلِكُمُ الْبِرُّ كَذَلِكُمُ الْبِرُّ «. وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ. رَوَاهُ فِي»شَرْحِ السُّنَّةِ «. وَالْبَيْهَقِيُّ فِي»شعب الْإِيمَان وَفِي رِوَايَة: قَالَ: «نِمْتُ فرأيتني فِي الْجنَّة»بدل «دخلت الْجنَّة»
English Translation
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said: "Each of you is a shepherd and each is responsible for his flock. The leader is a shepherd and is responsible for his flock. A man is a shepherd over his family and is responsible for his flock. A woman is a shepherd in her husband's home and is responsible for her flock. A servant is a shepherd over his master's wealth and is responsible for his flock."
Urdu Translation
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں قراءت سنی تو میں نے کہا: یہ کون (قراءت کر رہا) ہے؟ انہوں نے کہا: حارثہ بن نعمان ہیں، حسن سلوک کی یہی جزا ہوتی ہے، حسن سلوک کی جزا ایسی ہی ہوتی ہے۔“اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ سب سے بڑھ کر حسن سلوک کرنے والے تھے۔ بیہقی نے اسے شعب الایمان میں روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ہے:”میں جنت میں داخل ہوا“کی بجائے”میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔“کے الفاظ ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4926]
