Arabic (Original)
وَعَن أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا: «بمَ تستَمشِينَ؟» قَالَت: بالشُّبْرمِ قَالَ: «حارٌّ حارٌّ» . قَالَتْ: ثُمَّ اس��تَمْشَيْتُ بِالسَّنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ الشِّفَاءُ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
English Translation
Hadrat Asma’ daughter of ‘Umais told that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) asked her what laxative she used and she replied that she used spurge, whereupon he declared that it was very hot. She then used senna as a purgative, and. the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated:“If anything contained a remedy for death it would be senna.” Tirmidhi and Ibn Majah transmitted it, Tirmidhi saying this is a hasan gharlb tradition.
Urdu Translation
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم مسہل (دست آور دوا) کے لیے کیا استعمال کرتی ہو؟ عرض کیا: شبرم (ایک تیز جڑی بوٹی)۔ ارشاد فرمایا: بہت گرم ہے، بہت گرم ہے۔ فرماتی ہیں: پھر میں نے سنا (سنامکی) استعمال کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کسی چیز میں موت سے شفا ہوتی تو وہ سنا (سنامکی) ہوتی۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا: یہ حسن غریب حدیث ہے۔
