Arabic (Original)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: مَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ شَيْئًا يَطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يلقى أحدهم أَبَاهُ فَيَأْخُذ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ
English Translation
Hadrat Abu Huraira said that a man who told him a son of his had died and that he was grieved asked him if he had heard anything from his friend which would comfort them regarding their dead. He replied that he had, for he had heard him say, “Their young ones roam freely in paradise. One of them meets his father, seizes the end of his garment and does not leave him until he brings him into paradise." Muslim and Ahmad transmitted it, the wording being the latter’s.
Urdu Translation
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے کہا: میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے اور مجھے بہت غم ہے، کیا آپ نے اپنے خلیل (رسول اللہ) صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جو ہمارے مردوں کے بارے میں ہمارے دلوں کو سکون دے؟ فرمایا: ہاں، میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ان کے چھوٹے بچے جنت کی تتلیاں ہیں (یعنی آزادانہ جنت میں گھومتے ہیں)۔ ان میں سے ایک اپنے باپ سے ملتا ہے تو اس کا دامن پکڑ لیتا ہے جیسے میں تمہارا کپڑا پکڑ رہا ہوں، اور اسے چھوڑتا نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے والد سمیت جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔ (مسلم)
