Arabic (Original)
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ، سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعُرَيْضِ فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَأَبَى مُحَمَّدٌ . فَقَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ لِمَ تَمْنَعُنِي وَهُوَ لَكَ مَنْفَعَةٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَلاَ يَضُرُّكَ . فَأَبَى مُحَمَّدٌ فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ لاَ . فَقَالَ عُمَرُ لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ تَسْقِي بِهِ أَوَّلاً وَآخِرًا وَهُوَ لاَ يَضُرُّكَ . فَقَالَ مُحَمَّدٌ لاَ وَاللَّهِ . فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ . فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فَفَعَلَ الضَّحَّاكُ .
English Translation
Malik related to me from Amr ibn Yahya al-Mazini from his father that ad-Dahhak ibn Khalifa watered his irrigation ditch from a large source of water. He wanted to have it pass through the land of Muhammad ibn Maslama, and Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) refused. Ad-Dahhak said to him, "Why do you prevent me? It will benefit you. You can drink from it first and last and it will not harm you." Muhammed refused so ad- Dahhak spoke about it to Umar ibn al-Khattab, and Umar ibn al-Khattab summoned Muhammad ibn Maslama and ordered him to clear the way. Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) said, "No." Umar said, "Why do you prevent your brother from what will benefit him and is also useful for you? You will take water from it first and last and it will not harm you." Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) said, "No, by Allah!" Umar said, "By Allah, he will pass it through, even if it is over your belly!" Umar ordered him to allow its passage and ad-Dahhak did so.
Urdu Translation
یحیی بن عمارہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے ایک نہر نکالی عرض میں سے محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے ہو کر انہوں نے منع کیا ضحاک نے کہا تم کیوں منع کرتے ہو تمہارا تو اس میں نفع ہے اپنی زمین کو اول اور آخر پانی دیا کرنا اور کچھ ضرر نہی محمد نہ مانا ضحاک نے حضرت عمر سے بیان کیا حضرت عمر نے محمد بن مسلمہ کا بلا کر کہا تم اجازت دو محمد نے کہا میں نہ دوں گا حضرت عمر نے کہا تم اپنے بھائی مسلمان کو ایسی بات سے منع کرتے ہو جس میں اس کا نفع ہے اور تمہارا بھی نفع ہے تم بھی پانی لیا کرنا اول اور آخر میں اور تمہارا کچھ ضرر نہیں محمد نے کہا قسم اللہ کی میں اجازت نہ دونگا حضرت عمر نے کہا وہ نہر بہائی جائے اگرچہ تمہارے پیٹ پر سے ہو پھر حضرت عمر نے ضحاک کو حکم کیا نہر جاری کرنے گا محمد بن مسلمہ کی زمین سے ہو کر ضحاک نے ایسا ہی کہا۔
