Arabic (Original)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ قَالَ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ قَبِيلَةً أَوِ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ أَنْتِ الطَّلاَقُ وَكُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ وَمَالُهُ صَدَقَةٌ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَحَنِثَ قَالَ أَمَّا نِسَاؤُهُ فَطَلاَقٌ كَمَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهُ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا أَوْ قَبِيلَةً أَوْ أَرْضًا أَوْ نَحْوَ هَذَا فَلَيْسَ يَلْزَمُهُ ذَلِكَ وَلْيَتَزَوَّجْ مَا شَاءَ وَأَمَّا مَالُهُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِثُلُثِهِ .
English Translation
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that Abdullah ibn Masud said that there was nothing binding on someone who said, "Every woman I marry is divorced," if he did not name a specific tribe or woman. Malik said, "That is the best of what I have heard." Malik said about a man saying to his wife, "You are divorced, and every woman I marry is divorced," or that all his property would be sadaqa if he did not do such-and-such, and he broke his oath:"As for his wives, it is divorce as he said, and as for his statement, 'Every woman I marry is divorced', if he did not name a specific woman, tribe, or land, or such, it is not binding on him and he can marry as he wishes. As for his property, he gives a third of it away as sadaqa."
Urdu Translation
حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبداللہ بن مسعود اور سالم بن عبداللہ اور قاسم بن محمد اور ابن شہاب اور سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ جو کوئی شخص قسم کھا لے کسی عورت کی طلاق پر نکاح سے پہلے پھر نکاح کے بعد وہ قسم ٹوٹے تو طلاق پر جائے گی ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کہے میں جس عورت سے نکاح کروں اس عورت کو طلاق ہے اور کسی قبیلہ خاص اور عورت معین کا ذکر نہیں کیا تو یہ کلام لغو ہو جائے گا ۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کہے اگر میں فلاں کام نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے اور جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اور اس کا مال اللہ کی راہ میں صدقہ ہے پھر اس نے وہ کام نہ کیا تو اس کی عورت پر طلاق پڑ جائے گی مگر یہ جو کہا کہ جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اگر کسی عورت معین یا قبیلہ معین کا نام نہ لیا تو لغو ہو جائے گی اور مال میں سے تلائی صدقہ دینا ہوگا۔
