Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated a lengthy account of how he asked Umar about the two wives mentioned in the verse "If you both repent to Allah, for your hearts have deviated" (al-Tahrim: 4). Umar confirmed they were Aisha and Hafsah, and narrated in detail the story of the Prophet's seclusion from his wives for twenty-nine days, the concern of the Companions, and how the verses of choice were revealed, after which all the wives chose Allah and His Messenger.
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی:﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾[سورة التحريم: 4]ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا، ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا، پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا: یا امیر المومنین! نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی بیویوں میں وہ دو کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾[سورة التحريم: 4]؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا: اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے (کہ تمہیں یہ معلوم نہیں) وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالیِ مدینہ میں رہتے تھے، ہم نے (عوالی سے) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی، ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا (اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے، اور ہم قریشی عورتوں پر حاوی تھے لیکن جب ہم انصار کے پاس آئے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا، ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا، میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے؟ خدا کی قسم! نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی ازواج بھی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو جواب دے دیتی ہیں اور بعض تو آپ سے ایک دن تک الگ رہتی ہیں۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا: ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً نامراد ہو گئی، پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (مدینہ کے لیے) روانہ ہوا، پھر میں (اپنی بیٹی) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی (ایسا ہو جاتا ہے)، میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی، کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی؟ خبردار! نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے مطالبات نہ کیا کرو، نہ کسی معاملہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو جواب دیا کرو اور نہ (ان کا گھر) چھوڑا کرو، تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو تم سے زیادہ پیاری ہے، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا، ان کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ شاہِ غسان ہم پر حملہ کے لیے فوجی تیاریاں کر رہا ہے، میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے، وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر گھر میں ہیں؟ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا، میں نے کہا: کیا بات ہوئی؟ کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے ازواجِ مطہرات کو طلاق دے دی ہے، میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی، مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہوگا، پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے (اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا)، میں نے فجر کی نماز نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ پڑھی، (نماز کے بعد) نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلماپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی، میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی، میں نے کہا: اب روتی کیوں ہو؟ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا، کیا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلماس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا، اس کے گرد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ان میں بعض رو رہے تھے، تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا جہاں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف رکھتے تھے، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت لے لو، غلام اندر گیا اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے گفتگو کر کے واپس آ گیا، اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کی اور ان سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے، چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے، پھر میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت لے لو، اس غلام نے واپس آ کر پھر کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے آپ کا ذکر کیا تو آپ خاموش رہے، میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا، لیکن میرا غم مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر آ کر غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت طلب کرو، غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے ذکر کیا اور وہ خاموش رہے، میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھے پکارا اور کہا کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے تمہیں اجازت دے دی ہے، میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے، اس پر کوئی بستر بھی نہیں تھا، بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے، جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا:”نہیں“میں (خوشی کی وجہ سے) کہہ اٹھا: اللہ اکبر! پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو خوش کرنے کے لیے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے، پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس پر مسکرا دیے، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو عزیز ہے دھوکہ میں مت رہنا، ان کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا، اس پر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمدوبارہ مسکرا دیے، میں نے جب آپ کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا، پھر نظر اٹھا کر میں نے آپ کے گھر کا جائزہ لیا، خدا کی قسم! میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی سوائے تین چمڑوں کے (جو وہاں موجود تھے)۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے، فارس اور روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا:”ابن خطاب! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئے (کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا)، چنانچہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ کا راز عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ دیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ”ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا“کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر عتاب کیا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اس کا بہت رنج ہوا اور آپ نے ازواج سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا، پھر جب انتیسویں رات گزر گئی تو آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتدا کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں، میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ مہینہ انتیس کا ہے“۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیتِ تخییر (جس میں ازواجِ مطہرات کو آپ کے ساتھ رہنے یا الگ ہو جانے کا اختیار دیا گیا تھا) نازل کی اور آپصلی اللہ علیہ وسلماپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے (اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا) تو میں نے آپ کو ہی پسند کیا اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 945]
Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated a lengthy account of how he asked Umar about the two wives mentioned in the verse "If you both repent to Allah, for your hearts have deviated" (al-Tahrim: 4). Umar confirmed they were Aisha and Hafsah, and narrated in detail the story of the Prophet's seclusion from his wives for twenty-nine days, the concern of the Companions, and how the verses of choice were revealed, after which all the wives chose Allah and His Messenger.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی:﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾[سورة التحريم: 4]ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا، ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا، پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا: یا امیر المومنین! نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی بیویوں میں وہ دو کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾[سورة التحريم: 4]؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا: اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے (کہ تمہیں یہ معلوم نہیں) وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالیِ مدینہ میں رہتے تھے، ہم نے (عوالی سے) رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی، ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا (اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے، اور ہم قریشی عورتوں پر حاوی تھے لیکن جب ہم انصار کے پاس آئے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا، ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا، میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے؟ خدا کی قسم! نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی ازواج بھی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو جواب دے دیتی ہیں اور بعض تو آپ سے ایک دن تک الگ رہتی ہیں۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا: ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً نامراد ہو گئی، پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (مدینہ کے لیے) روانہ ہوا، پھر میں (اپنی بیٹی) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی (ایسا ہو جاتا ہے)، میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی، کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی؟ خبردار! نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے مطالبات نہ کیا کرو، نہ کسی معاملہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو جواب دیا کرو اور نہ (ان کا گھر) چھوڑا کرو، تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو تم سے زیادہ پیاری ہے، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا، ان کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ شاہِ غسان ہم پر حملہ کے لیے فوجی تیاریاں کر رہا ہے، میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے، وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر گھر میں ہیں؟ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا، میں نے کہا: کیا بات ہوئی؟ کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے ازواجِ مطہرات کو طلاق دے دی ہے، میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی، مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہوگا، پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے (اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا)، میں نے فجر کی نماز نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ پڑھی، (نماز کے بعد) نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلماپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی، میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی، میں نے کہا: اب روتی کیوں ہو؟ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا، کیا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلماس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا، اس کے گرد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ان میں بعض رو رہے تھے، تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا جہاں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف رکھتے تھے، میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت لے لو، غلام اندر گیا اور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے گفتگو کر کے واپس آ گیا، اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کی اور ان سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے، چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے، پھر میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت لے لو، اس غلام نے واپس آ کر پھر کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے آپ کا ذکر کیا تو آپ خاموش رہے، میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا، لیکن میرا غم مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر آ کر غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت طلب کرو، غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے ذکر کیا اور وہ خاموش رہے، میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھے پکارا اور کہا کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے تمہیں اجازت دے دی ہے، میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے، اس پر کوئی بستر بھی نہیں تھا، بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے، جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا:”نہیں“میں (خوشی کی وجہ سے) کہہ اٹھا: اللہ اکبر! پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو خوش کرنے کے لیے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے، پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس پر مسکرا دیے، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو عزیز ہے دھوکہ میں مت رہنا، ان کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا، اس پر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمدوبارہ مسکرا دیے، میں نے جب آپ کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا، پھر نظر اٹھا کر میں نے آپ کے گھر کا جائزہ لیا، خدا کی قسم! میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی سوائے تین چمڑوں کے (جو وہاں موجود تھے)۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے، فارس اور روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا:”ابن خطاب! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئے (کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا)، چنانچہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ کا راز عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ دیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ”ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا“کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر عتاب کیا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اس کا بہت رنج ہوا اور آپ نے ازواج سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا، پھر جب انتیسویں رات گزر گئی تو آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتدا کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں، میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ مہینہ انتیس کا ہے“۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیتِ تخییر (جس میں ازواجِ مطہرات کو آپ کے ساتھ رہنے یا الگ ہو جانے کا اختیار دیا گیا تھا) نازل کی اور آپصلی اللہ علیہ وسلماپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے (اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا) تو میں نے آپ کو ہی پسند کیا اس کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 945]