Arabic (Original)
885 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؛ قَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا؛ وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَصُومُ الدَّهْرَ وَلاَ أُفْطِرُ؛ وَقَالَ آخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ أَتَزَوَّجُ أَبَدًا فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا؛ أَمَا وَاللهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ للهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ؛ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
English Translation
Narrated Anas ibn Malik: Three men came to the houses of the wives of the Prophet (peace be upon him) asking about the worship of the Prophet (peace be upon him). When they were informed, they seemed to consider it insufficient and said: "Where are we compared to the Prophet (peace be upon him)? His past and future sins have been forgiven." One of them said: "As for me, I will pray all night forever." Another said: "I will fast every day and never break my fast." Another said: "I will stay away from women and never marry." The Messenger of Allah (peace be upon him) came and said: "Are you the ones who said such and such? By Allah, I am the most God-fearing and God-conscious among you, yet I fast and break my fast, I pray and sleep, and I marry women. Whoever turns away from my Sunnah is not of me."
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی ازواجِ مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کیا مقابلہ، آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں، ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا، تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے اور ان سے پوچھا:”کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ کی قسم! میں اللہ رب العالمین سے تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا رہتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 885]
