Arabic (Original)
860 صحيح حديث أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ؛ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا إِنَّ اللهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لأبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ عَمْرٌو قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ يَا شُرَيْحٍ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ
English Translation
Narrated Abu Shurayh (may Allah be pleased with him): He said to Amr ibn Sa'id while he was sending troops to Makkah: "O Commander, permit me to tell you a statement that the Prophet (peace be upon him) made the day after the Conquest (of Makkah). My ears heard it, my heart preserved it, and my eyes saw him when he spoke it. He praised Allah and glorified Him, then said: 'Indeed, Makkah was made sacred by Allah, not by the people. It is not lawful for any person who believes in Allah and the Last Day to shed blood in it or to cut its trees. If anyone seeks justification for fighting in it because of the fighting of the Messenger of Allah (peace be upon him), say to him: Allah permitted His Messenger but did not permit you. He only permitted me during a brief hour of the day, and its sanctity today is restored as it was yesterday. Let those present convey (this message) to those absent.'" Abu Shurayh was asked: "What did Amr say?" He said: "He said: 'I know better than you, O Shurayh. The Haram does not give refuge to a sinner, nor to one fleeing after shedding blood, nor to one fleeing after committing mischief.'"
Urdu Translation
سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید (والی مدینہ) سے جب وہ مکہ میں (ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے) فوجیں بھیج رہے تھے کہا کہ اے امیر! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ سے بیان کر دوں، جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس (حدیث) کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمیہ حدیث فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھ رہی تھیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (پہلے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:”مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، آدمیوں نے حرام نہیں کیا۔ تو (سن لو) کہ کسی شخص کے لیے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ مکہ میں خون ریزی کرے، یا اس کا کوئی پیڑ کاٹے، پھر اگر کوئی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلمکے لڑنے) کی وجہ سے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہہ دو: اللہ نے اپنے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے اجازت دی تھی، تمہارے لیے نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت لوٹ آئی، جیسی کل تھی۔ اور حاضر غائب کو (یہ بات) پہنچا دے۔“(یہ حدیث سننے کے بعد راویِ حدیث) سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ (آپ کی یہ بات سن کر) عمرو نے کیا جواب دیا؟ فرمایا: (عمرو نے کہا) اے ابو شریح! حدیث کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، مگر حرم (مکہ) کسی خطا کار کو یا خون کر کے اور فتنہ پھیلا کر بھاگ آنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 860]
