Arabic (Original)
843 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ: إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمِ النَّفَقَةُ قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ: فَعَلَ ذلِكَ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مِنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلَيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ تَنْكِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرِ فِي الْبَيْتِ، وَأَنْ أُلْصِقَ بَابَهُ بِالأَرْضِ
English Translation
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): "I asked the Prophet (peace be upon him) about the wall (al-Jadr, i.e., the Hijr): 'Is it part of the House?' He said: 'Yes.' I said: 'Then why did they not include it in the House?' He said: 'Your people ran short of funds.' I said: 'Why is its door raised high?' He said: 'Your people did that so they could admit whoever they wished and prevent whoever they wished. Were it not that your people are still close to the pre-Islamic period and I fear their hearts would reject it, I would have included the Hijr in the House and made its door level with the ground.'"
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھا کہ کیا حطیم بھی بیت اللہ میں داخل ہے؟ آپ نے فرمایا:”ہاں“، پھر میں نے پوچھا کہ پھر لوگوں نے اسے کعبہ میں کیوں نہیں شامل کیا؟ آپ نے جواب دیا:”تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی پڑ گئی تھی“، پھر میں نے پوچھا کہ یہ دروازہ کیوں اونچا بنایا؟ آپ نے فرمایا:”یہ بھی تمہاری قوم ہی نے کیا ہے تاکہ جسے چاہیں اندر آنے دیں اور جسے چاہیں روک دیں، اگر تمہاری قوم کی جاہلیت کا زمانہ تازہ تازہ نہ ہوتا اور مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل بگڑ جائیں گے تو اس حطیم کو بھی میں کعبہ میں شامل کر دیتا اور کعبہ کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 843]
