Arabic (Original)
805 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَالْفَضْلُ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ، فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقُلْتُ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ
English Translation
Narrated Usamah ibn Zayd and al-Fadl (may Allah be pleased with them): Kurayb, the freed slave of Ibn Abbas, narrated from Usamah ibn Zayd that he said: "I rode behind the Messenger of Allah (peace be upon him) from Arafat. When the Messenger of Allah (peace be upon him) reached the left mountain pass before Muzdalifah, he made his camel kneel, relieved himself, then came and I poured water for his ablution. He performed a light ablution. I said: 'The prayer, O Messenger of Allah.' He said: 'The prayer is ahead of you.' The Messenger of Allah (peace be upon him) rode until he reached Muzdalifah and prayed. Then al-Fadl rode behind the Messenger of Allah (peace be upon him) on the morning of Jam' (Muzdalifah)." Kurayb said: "Abdullah ibn Abbas informed me from al-Fadl that the Messenger of Allah (peace be upon him) continued pronouncing the Talbiyah until he reached the Jamrah (pillar for stoning)."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب روایت کرتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عرفات سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، مزدلفہ کے قریب بائیں طرف جو گھاٹی پڑتی ہے، جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلموہاں پہنچے تو آپ نے اونٹ کو بٹھایا، پھر پیشاب کیا اور تشریف لائے تو میں نے آپ پر وضو کا پانی ڈالا، آپ نے ہلکا سا وضو کیا، میں نے کہا:”یا رسول اللہ! اور نماز؟“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نماز تمہارے آگے ہے (یعنی مزدلفہ میں پڑھی جائے گی)“پھر آپ سوار ہو گئے، جب مزدلفہ میں آئے تو (مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر) پڑھی، پھر مزدلفہ کی صبح (یعنی دسویں تاریخ) کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی سواری کے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، کریب نے کہا کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذریعہ سے خبر دی کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبرابر«لَبَّيْكَ»”لبیک“کہتے رہے تا آنکہ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے (اور وہاں آپ نے کنکریاں ماریں)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 805]
