Arabic (Original)
759 صحيح حديث عَائِشَةَ، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ، فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ: وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ: لاَ قَالَ: فَاذْهَبِى مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّى بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَهُمْ قَالَ: عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ، قُلْتُ: بَلَى قَالَ: لاَ بَأْسَ، انْفِرِى قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا
English Translation
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): "We went out with the Prophet (peace be upon him) with no intention other than Hajj. When we arrived, we performed Tawaf of the House. The Prophet (peace be upon him) ordered those who had not brought sacrificial animals to come out of Ihram. Those who had not brought sacrificial animals came out of Ihram, and his wives, who had not brought sacrificial animals, also came out of Ihram. Aishah said: 'I menstruated, so I did not perform Tawaf of the House. On the night of al-Hasbah (departure), I said: O Messenger of Allah, the people are returning with both Umrah and Hajj, while I am returning with only Hajj.' He said: 'Did you not perform Tawaf on the nights when we arrived in Makkah?' I said: 'No.' He said: 'Then go with your brother to al-Tan'im and assume Ihram for Umrah, and your appointment is such and such a place.' Safiyyah said: 'I think I will delay them.' He said: 'May you be ruined! Did you not perform Tawaf on the Day of Sacrifice?' She said: 'Yes.' He said: 'There is no problem, then depart.' Aishah said: 'The Prophet (peace be upon him) met me while he was ascending from Makkah and I was descending toward it, or I was ascending and he was descending.'"
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حج کے لیے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ نکلے، ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی، جب ہم مکہ پہنچے تو (اور لوگوں نے) بیت اللہ کا طواف کیا، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکا حکم تھا کہ”جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے“چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے (افعالِ عمرہ کے بعد)۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی ازواجِ مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں، اس لیے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی تھی، اس لیے میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی (یعنی عمرہ چھوٹ گیا اور حج کرتی چلی گئی)۔ جب محصب کی رات آئی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کر سکی تھیں؟“میں نے کہا کہ نہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ (پھر عمرہ ادا کر)، ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے۔“اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ لوگوں کو روکنے کا سبب بن جاؤں گی۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”سرمنڈی! کیا تو نے یومِ نحر کا طواف نہیں کیا تھا؟“انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میں تو طواف کر چکی ہوں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر کوئی حرج نہیں، چل کوچ کر۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے ہوئی تو آپصلی اللہ علیہ وسلممکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی، یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماس چڑھاؤ کے بعد اتر رہے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 759]
