Arabic (Original)
74 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلا فِضَّةً، إِنَّما غَنِمْنا الْبَقَرَ وَالإِبِلَ وَالْمَتاعَ وَالْحَوائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى وادي الْقُرى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقالُ لَهُ مِدْعَمٌ، أَهْداهُ لَهُ أَحَدُ بَني الضِّبابِ؛ فَبَيْنَما هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جاءَهُ سَهْمٌ عائِرٌ حَتّى أَصابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ فَقالَ النَّاسُ: هَنيئًا لَهُ الشَّهادَةُ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلى وَالَّذي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتي أَصابَها يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغانِمِ لَمْ تُصِبْها الْمَقاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نارًا فَجاءَ رَجُلٌ، حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِشِراكٍ أَوْ بِشِراكَيْنِ، فَقالَ: هذا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شِراكٌ أَوْ شِرَاكانِ مِنْ نارٍ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A man's prayer in congregation is twenty-five degrees better than his prayer at home or in the marketplace. If he performs ablution well, then goes to the mosque with no purpose other than prayer, with every step he takes, he is raised one degree and one sin is erased from him, until he enters the mosque. When he enters the mosque, he is in a state of prayer as long as the prayer keeps him there. The angels send blessings upon one of you as long as he remains in the place where he prayed, saying: 'O Allah, have mercy on him. O Allah, forgive him. O Allah, accept his repentance' — as long as he does not break his ablution."
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مال غنیمت میں ہمیں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا، بلکہ گائے، اونٹ، سامان اور باغات ملے تھے، پھر ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا، وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر اس کو لگا، لوگوں نے کہا: مبارک ہو شہادت! لیکن نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی، وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔“یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ میں نے اٹھا لیے تھے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 74]
