Arabic (Original)
734 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ َلاهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرٍ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُريدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَاكَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا
English Translation
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): The Messenger of Allah (peace be upon him) designated Dhul-Hulayfah as the Miqat for the people of Madinah, al-Juhfah for the people of Sham, Qarn al-Manazil for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen. These Miqats are for their respective people and for anyone who passes through them from other regions intending Hajj or Umrah. Whoever lives within these boundaries may assume Ihram from their place of residence, and likewise, until even the people of Makkah assume Ihram from Makkah itself.
Urdu Translation
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے”مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرنِ منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم؛ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ان کے گھر ہیں، یہاں تک کہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔“(جو حضرات عمرہ کے لیے تنعیم جانا ضروری گردانتے ہیں یہ حدیث ان پر حجت ہے بشرطیکہ بنظرِ تحقیق مطالعہ فرمائیں)[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 734]
