Arabic (Original)
72 صحيح حديثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى عَسْكَرِهِ، وَمالَ الآخَرُونَ إِلى عَسْكَرِهِمْ، وَفي أَصْحابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لا يَدَعُ لَهُمْ شاذَّةً وَلا فَاذَّةً إِلاَّ اتَّبَعَهَا يَضْرِبُها بِسَيْفِهِ، فَقالُوا ما أَجْزَأَ مِنّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَما أَجْزَأَ فُلانٌ؛ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَما إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنا صَاحِبُهُ قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ كُلَّما وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذا أَسْرَعَ أسرع مَعَهُ؛ قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَديدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ، وَذُبابَهُ بَيْنَ ثَدْييْهِ ثُمَّ تَحامَلَ عَلى نَفْسِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ قَالَ: وَما ذَاكَ قَالَ: الرَّجُلُ الَّذي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنا لَكُمْ بِهِ، فَخَرَجْتُ في طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَع نَصْلَ سَيْفِهِ في الأَرْضِ، وَذُبابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فيما يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيما يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهْوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Whoever goes to the mosque and returns, Allah prepares for him a welcome in Paradise each time he goes and returns."
Urdu Translation
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلم(اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف، تو آپ کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا؛ لڑائی لڑنے میں اس کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر پڑ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے ہم میں کوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:”لیکن وہ شخص دوزخی ہے“۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں) کہا: اچھا میں اس کا پیچھا کروں گا (دیکھوں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے کیوں دوزخی فرمایا ہے)۔ بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ (دوسرے دن لڑائی میں موجود) رہا، جب کبھی وہ کھڑا ہو جاتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہو گیا، زخم بڑا گہرا تھا اس لیے اس نے چاہا کہ موت جلدی آ جائے اور اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلے میں کر لیا اور تلوار پر گر کر اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”کیا بات ہوئی؟“انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم پر آپصلی اللہ علیہ وسلمکا فرمان بڑا شاق گزرا تھا، میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں، چنانچہ میں اس کے پیچھے ہو لیا، اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آ جائے، اس لیے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا اور اس پر گر کر خود جان دے دی۔ اس وقت آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں ہوتا ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 72]
