Arabic (Original)
614 صحيح حديث حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي؛ ثُمَّ قَالَ: يَاحَكِيمُ إِنَّ هذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حَكِيمٌ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَرْزأْ أَحَدًا بَعْدكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه، يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى الْعَطَاءِ، فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رضي الله عنه دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمٍ، أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تُوُفِّيَ
English Translation
Narrated Hakim ibn Hizam: I asked the Messenger of Allah (peace be upon him) and he gave me. Then I asked him again and he gave me. Then I asked again and he gave me. Then he said: "O Hakim, this wealth is green and sweet. Whoever takes it with contentment of soul will be blessed in it. Whoever takes it with greed, it will not be blessed for him — like one who eats and is never satisfied. The upper hand is better than the lower hand." Hakim said: "I said: 'O Messenger of Allah, by the One who sent you with the truth, I will never ask anyone for anything after you until I leave this world.'" Abu Bakr used to call Hakim to give him his share, but he would refuse. Then Umar called him, but he refused. Umar said: "O Muslims, I call upon you to witness regarding Hakim — I offer him his right from this spoil and he refuses." Hakim never accepted anything from anyone after the Messenger of Allah (peace be upon him) until he died.
Urdu Translation
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کچھ مانگا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے عطا فرمایا، میں نے پھر مانگا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر عطا فرمایا، میں نے پھر مانگا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پھر بھی عطا فرمایا، اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:”اے حکیم! یہ دولت بڑی سر سبز اور بہت ہی شیریں ہے لیکن جو شخص اس سے اپنے دل کو سخی رکھ لے تو اس کی دولت میں برکت ہوتی ہے اور جو لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کی دولت میں کچھ بھی برکت نہیں ہو گی، اس کا حال اس شخص جیسا ہو گا جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا اور (یاد رکھو) اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔“سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب اس کے بعد میں کسی سے کوئی چیز نہیں لوں گا تاآنکہ اس دنیا ہی سے میں جدا ہو جاؤں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کو ان کا حصہ دینے کو بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں ان کا حصہ دینا چاہا تو انہوں نے اس کے لینے سے انکار کر دیا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: مسلمانو! میں تمہیں حکیم بن حزام کے معاملہ میں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کا حق انہیں دینا چاہا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ غرض حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے بعد اسی طرح کسی سے بھی کوئی چیز لینے سے ہمیشہ انکار ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 614]
