Arabic (Original)
601 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ؛ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ؛ فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ زَانِيَةٍ؛ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ؛ فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ؛ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ؛ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدَيْ غَنِيٍّ؛ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ، تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، وَعَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ فَأُتِيَ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللهُ
English Translation
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A man said: 'Tonight I shall give charity.' He went out with his charity and unknowingly placed it in the hand of a thief. The next morning people said: 'Charity was given to a thief!' He said: 'O Allah, praise be to You — a thief! I shall give charity again.' He went out with his charity and placed it in the hand of a prostitute. The next morning people said: 'Charity was given to a prostitute last night!' He said: 'O Allah, praise be to You — a prostitute! I shall give charity again.' He went out with his charity and placed it in the hand of a rich man. The next morning people said: 'Charity was given to a rich man!' He said: 'O Allah, praise be to You — a thief, a prostitute, and a rich man!' He was told: 'Your charity to the thief may cause him to refrain from stealing. The prostitute may refrain from her immorality. And the rich man may learn a lesson and spend from what Allah has given him.'"
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ایک شخص نے (بنی اسرائیل میں سے) کہا کہ مجھے ضرور صدقہ (آج رات) دینا ہے، چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (ناواقفی سے) ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح ہوئی تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ آج رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا، اس شخص نے کہا:«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ»”اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے“، (آج رات) میں پھر ضرور صدقہ کروں گا۔ چنانچہ وہ دوبارہ صدقہ لے کر نکلا اور اس مرتبہ ایک فاحشہ کے ہاتھ میں دے آیا، جب صبح ہوئی تو پھر لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج رات کسی نے فاحشہ عورت کو صدقہ دے دیا، اس شخص نے کہا:«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ»”اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے“، میں زانیہ کو اپنا صدقہ دے آیا، اچھا آج رات پھر ضرور صدقہ نکالوں گا، چنانچہ اپنا صدقہ لیے ہوئے وہ پھر نکلا اور اس مرتبہ ایک مالدار کے ہاتھ پر رکھ دیا، صبح ہوئی تو لوگوں کی زبان پر ذکر تھا کہ ایک مالدار کو کسی نے صدقہ دے دیا ہے، اس شخص نے کہا:«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ»”اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے ہے“، میں اپنا صدقہ لاعلمی سے چور، فاحشہ اور مالدار کو دے آیا۔ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) بتایا گیا کہ جہاں تک چور کے ہاتھ میں صدقہ چلے جانے کا سوال ہے تو اس میں اس کا امکان ہے کہ وہ چوری سے رک جائے، اسی طرح فاحشہ کو صدقہ کا مال مل جانے پر اس کا امکان ہے کہ وہ زنا سے رک جائے اور مالدار کے ہاتھ میں پڑ جانے کا یہ فائدہ ہے کہ اسے عبرت ہو اور پھر جو اللہ عزوجل نے اسے دیا ہے وہ خرچ کرے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 601]
