Arabic (Original)
597 صحيح حديث عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَسَيُكَلِّمُهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَيْسَ بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ فَلاَ يَرَى شَيْئًا قدَّامَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ وَعَنْهُ أَيْضًا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا النَّارَ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ؛ ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثَلاَثًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
English Translation
Narrated Adi ibn Hatim: The Prophet (peace be upon him) said: "There is no one among you except that his Lord will speak to him without any interpreter between them. He will look to his right and see nothing but what he sent ahead, and look to his left and see nothing but what he sent ahead, and look before him and see nothing but the Fire in front of his face. So protect yourselves from the Fire, even if with half a date."
Urdu Translation
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم میں ہر ہر فرد سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح کلام کرے گا کہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا، پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی، پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ راہِ خدا میں خیر خیرات کرتا رہے، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ہی ممکن ہو۔“سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جہنم سے بچو۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے چہرہ پھیر لیا، پھر فرمایا:”جہنم سے بچو۔“اور پھر اس کے بعد چہرہ مبارک پھیر لیا، پھر فرمایا:”جہنم سے بچو۔“تین مرتبہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ایسا ہی کیا، ہم نے اس سے یہ خیال کیا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمجہنم کو دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا:”جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے ہو سکے اور جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے (لوگوں میں) کسی اچھی بات کہنے کے ذریعے سے ہی (جہنم سے) بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 597]
