Arabic (Original)
517 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّماءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذلِكَ، وَمِنَ الْغَدِ، وَبَعْدَ الْغَدِ، وَالَّذِي يَلِيهِ، حَتَّى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى فَقَامَ ذلِكَ الأَعْرَابِيُّ، أَوْ قَالَ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ، وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلاَّ انْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ، وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِىءْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ حَدَّثَ بِالْجَوْدِ
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) said: A drought struck the people during the time of the Prophet (peace be upon him). While the Prophet was delivering the Friday sermon, a Bedouin stood up and said: "O Messenger of Allah, our livestock are dying and our families are hungry. Pray to Allah for us." He raised his hands, and there was not a trace of cloud in the sky. By the One in Whose Hand is my soul, he had not put his hands down before clouds gathered like mountains. He had not come down from his pulpit before I saw rain dripping from his beard. It rained that day, the next day, the day after, and until the following Friday. The same Bedouin — or another — stood up and said: "O Messenger of Allah, the buildings are collapsing and the livestock are drowning. Pray to Allah for us." He raised his hands and said: "O Allah, around us and not upon us." He did not point in any direction except that the clouds cleared from it, and Madinah became like an opening in the clouds.
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے میں قحط پڑا، آپصلی اللہ علیہ وسلمخطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور اہل و عیال دانوں کو ترس گئے، آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اس وقت بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی ریش مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ اس دن، اس کے بعد اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ (دوسرے جمعہ کو) یہی دیہاتی پھر کھڑا ہوا یا کہا کہ کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! عمارتیں منہدم ہو گئیں اور جانور ڈوب گئے، آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی:«اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا»”اے اللہ! اب دوسری طرف بارش برسا اور ہم سے روک دے۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمہاتھ سے بادل کے لیے جس طرف بھی اشارہ کرتے ادھر مطلع صاف ہو جاتا۔ سارا مدینہ تالاب کی طرح بن گیا تھا اور قناۃ کا نالہ مہینہ بھر بہتا رہا اور ارد گرد سے آنے والے بھی اپنے یہاں بھرپور بارش کی خبر دیتے رہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 517]
