Arabic (Original)
355 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْعِرَاقِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ؛ فَقَالَ: مَا هذَا يَا مُغِيرَةُ؛ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِهذَا أُمِرْتُ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: اعْلَمْ مَا تحَدِّثُ بِهِ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ هُو أَقَامَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلاَةِ قَالَ عُرْوَةُ: كَذلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ
English Translation
Narrated Abu Mas'ud al-Ansari, from Ibn Shihab: Umar ibn Abd al-Aziz delayed the prayer one day, so Urwah ibn al-Zubayr came to him and told him that al-Mughirah ibn Shu'bah had delayed the prayer one day while in Iraq, and Abu Mas'ud al-Ansari came to him and said: "What is this, O Mughirah? Do you not know that Jibril (peace be upon him) came down and prayed, so the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed? Then he prayed again, and the Messenger of Allah prayed. Then again, and again, and again. Then he said: 'With this I was commanded.'" Umar said to Urwah: "Be careful of what you narrate. Did Jibril really establish the prayer times for the Messenger of Allah?" Urwah said: "That is how Bashir ibn Abu Mas'ud used to narrate from his father."
Urdu Translation
ابن شہاب کی روایت ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن (عصر کی) نماز میں دیر کی، پس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں بتایا کہ (اسی طرح) مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن (عراق میں) نماز میں دیر کی تھی جب وہ عراق میں (حاکم) تھے، پس ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں گئے اور فرمایا: مغیرہ! آخر یہ کیا بات ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب جبریل علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے نماز پڑھی تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا:”میں اسی طرح حکم کیا گیا ہوں۔“اس پر سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: معلوم بھی ہے آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ کیا جبریل علیہ السلام نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکو نماز کے اوقات (عمل کر کے) بتلائے تھے؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ہاں، اسی طرح بشیر بن ابی مسعود رحمہ اللہ اپنے والد کے واسطہ سے بیان کرتے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 355]
