Arabic (Original)
301 صحيح حديث أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ أَعْلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةَ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلِى بَني النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَته، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ، وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ، حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هذَا قَالُوا: لاَ وَاللهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى الله قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ، قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَفِيهِ خَرِبٌ، وَفِيهِ نَخْلٌ؛ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، ثمَّ بِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ، وَجَعَلوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ، وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ: اللهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "The prayer of a person in congregation is twenty-five times superior to his prayer offered at home or in his shop. When he performs ablution well, then goes to the mosque with no other purpose than prayer, his rank is raised by one degree and one sin is removed for every step he takes, until he enters the mosque. While he is in the mosque, he is considered to be in prayer as long as the prayer keeps him there. The angels continue to pray for him as long as he is in his prayer place, saying: 'O Allah, have mercy on him. O Allah, forgive him. O Allah, accept his repentance,' so long as he does not break his ablution."
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلممدینہ تشریف لائے تو یہاں کے بلند حصہ میں بنی عمرو بن عوف کے یہاں آپ اترے اور یہاں چوبیس رات قیام فرمایا، پھر آپ نے بنو نجار کو بلا بھیجا تو وہ لوگ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میری نظروں کے سامنے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماپنی سواری پر تشریف فرما ہیں، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے چاروں طرف ہیں یہاں تک کہ آپ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے اترے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمیہ پسند کرتے تھے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے فوراً نماز ادا کرلیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمبکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہاں مسجد بنانے کے لیے فرمایا چنانچہ بنو نجار کے لوگوں کو آپ نے بلوا کر فرمایا:”اے بنو نجار! تم اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے لے لو۔“انہوں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! نہیں، اس کی قیمت ہم صرف خداوند تعالیٰ سے مانگتے ہیں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جیسا کہ تمہیں بتا رہا تھا یہاں مشرکین کی قبریں تھیں، اس باغ میں ایک ویران جگہ تھی اور کچھ کھجور کے درخت، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے مشرکین کی قبروں کو اکھڑوا دیا، ویرانہ کو صاف اور برابر کرایا اور درختوں کو کٹوا کر ان کی لکڑیوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب بچھا دیا اور پتھروں کے ذریعہ انہیں مضبوط بنا دیا، صحابہ پتھر اٹھاتے ہوئے رجز پڑھتے تھے اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمبھی ان کے ساتھ تھے اور یہ کہہ رہے تھے:«اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ»”اے اللہ! آخرت کے فائدہ کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں، پس انصار و مہاجرین کی مغفرت فرمائیو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 301]
