Arabic (Original)
243 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَانَتِ الصَّلاَةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيم قَالَ: نَعَمْ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ؛ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ،[ص:89]فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى؛ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ رَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاَتِهَ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ
English Translation
Narrated Sahl ibn Sa'd al-Sa'idi: The Messenger of Allah (peace be upon him) went to the Banu Amr ibn Awf to reconcile between them. The prayer time came, and the mu'adhdhin came to Abu Bakr and said: "Will you lead the people in prayer so I can call the iqamah?" He said: "Yes." Abu Bakr led the prayer. The Messenger of Allah (peace be upon him) arrived while the people were in prayer. He made his way through the rows until he stood in the first row. The people clapped. Abu Bakr would never turn around during prayer, but when the people clapped excessively, he turned and saw the Messenger of Allah. The Messenger of Allah gestured to him to stay in his place. Abu Bakr raised his hands and praised Allah for what the Messenger of Allah had commanded. Then Abu Bakr stepped back until he was in the row, and the Messenger of Allah (peace be upon him) stepped forward and led the prayer. When he finished, he said: "O Abu Bakr, what prevented you from staying when I gestured to you?" Abu Bakr said: "It was not fitting for the son of Abu Quhafah to pray before the Messenger of Allah." The Prophet said to the people: "Why were you clapping? Whoever notices something in the prayer should say SubhanAllah, for when he says it, attention will be drawn to him. Clapping is for women."
Urdu Translation
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبنی عمرو بن عوف میں (قباء میں) صلح کرانے کے لیے گئے، پس نماز کا وقت آ گیا، مؤذن (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ) نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آ کر کہا کہ کیا آپ نماز پڑھائیں گے، میں تکبیر کہوں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں، چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی، اتنے میں رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لے آئے، تو لوگ نماز میں تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمصفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچے، لوگوں نے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا (تاکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی آمد پر آگاہ ہو جائیں) لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف توجہ نہیں دیتے تھے، جب لوگوں نے متواتر ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا تو صدیقِ اکبر متوجہ ہوئے اور رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا (کہ نماز پڑھائے جاؤ) لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کو امامت کا اعزاز بخشا، پھر پیچھے ہٹ گئے اور صف میں شامل ہو گئے، اس لیے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابوبکر! جب میں نے آپ کو حکم دے دیا تھا، پھر آپ ثابت قدم کیوں نہ رہے؟“سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ ابوقحافہ کے بیٹے (یعنی ابوبکر) کی یہ حیثیت نہ تھی کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے نماز پڑھا سکیں، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے لوگوں کی طرف خطاب کرتے ہوئے فرمایا:”عجیب بات ہے، میں نے دیکھا کہ تم لوگ بکثرت تالیاں بجا رہے تھے، (یاد رکھو) اگر نماز میں کوئی بات پیش آ جائے تو«سُبْحَانَ اللّٰهِ»”اللہ پاک ہے“کہنا چاہیے، جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور یہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 243]
