Arabic (Original)
1896 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنْ عُرْوَةَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّه سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى(وَإِنْ خِفْتُمْ)إِلَى(وَرُبَاعَ)فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، تُشَارِكهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ، وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّقَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ هذِهِ الآيَةِ فَأَنْزَلَ اللهُ(وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ)إِلَى قَوْلِهِ(وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ)وَالَّذِي ذَكَرَ اللهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ، الآيَةُ الأُولَى الَّتِي قَالَ فِيهَا(وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا في الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ)قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللهِ فِي الآيَةِ الأُخْرَى(وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ)يَعْنِي هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ لِيَتِيمَتِهِ الَّتِي تكُونُ فِي حَجْرِهِ، حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ، إِلاَّ بِالْقِسْطِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ
English Translation
Urwah ibn al-Zubayr asked A'ishah (may Allah be pleased with her) about the saying of Allah: "And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls" to "two or three or four" (4:3). She said: "O son of my sister, this refers to an orphan girl who is under the guardianship of her guardian, sharing his wealth, and he is attracted by her wealth and beauty, and wishes to marry her without giving her a fair dowry like others would give her. So they were forbidden from marrying them unless they dealt justly with them and gave them the highest customary dowry. They were commanded to marry other women whom they liked besides them." A'ishah then said: "Then the people asked the Messenger of Allah (peace be upon him) for a ruling after this verse, and Allah revealed: 'They ask you about women...' to 'and you desire to marry them' (4:127). What Allah mentioned as being recited in the Book is the first verse: 'If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphans, then marry women who please you' (4:3). A'ishah said: The saying of Allah 'and you desire to marry them' refers to one's desire for an orphan girl in his guardianship when she has little wealth and beauty; they were forbidden from marrying orphan women they desired for their wealth and beauty unless with fairness, because they would normally shun them when they had little wealth and beauty."
Urdu Translation
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں”اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ کرنے کا ڈر ہو تو جو عورتیں پسند آئیں دو دو تین تین چار چار نکاح میں لاؤ“(نساء: ۳) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی محافظ رشتہ دار جیسے چچیرا بھائی پھوپھی زاد یا ماموں زاد بھائی کی پرورش میں ہو اور ترکے کے مال میں اس کی ساجھی ہو اور وہ اس کی مالداری اور خوبصورتی پر فریفتہ ہو کر اس سے نکاح کر لینا چاہے، لیکن پورا مہر انصاف سے جتنا اس کو اور جگہ ملتا وہ نہ دے تو اسے اس سے منع کر دیا گیا کہ ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرے۔ البتہ اگر ان کے ساتھ ان کے ولی انصاف کر سکیں اور ان کی حسبِ حیثیت بہتر سے بہتر طرزِ عمل مہر کے بارے میں اختیار کریں تو اس صورت میں نکاح کرنے کی اجازت ہے اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ ان کے سوا جو بھی عورتیں انھیں پسند ہوں ان سے وہ نکاح کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ پھر لوگوں نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد (ایسی لڑکیوں سے نکاح کی اجازت کے بارے میں) مسئلہ پوچھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی”تجھ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں، تو کہہ دے کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کار گذاری انصاف کے ساتھ کرو، تم جو نیک کام کرو بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔ (نساء: ۱۲۷) یہ جو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ”قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر پڑھی جاتی ہیں“اس سے مراد پہلی آیت ہے یعنی اگر تم کو یتیموں میں انصاف نہ ہو سکنے کا ڈر ہو تو دوسری عورتیں جو بھلی لگیں ان سے نکاح کر لو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یہ جو اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا اور تم انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو، اس سے یہ غرض ہے کہ جو یتیم لڑکی تمھاری پرورش میں ہو اور مال اور جمال کم رکھتی ہو اس سے تو تم نفرت کرتے ہو اور اس لیے جس یتیم لڑکی کے مال اور جمال میں تم کو رغبت ہو اس سے بھی نکاح نہ کرو مگر اس صورت میں جب انصاف کے ساتھ ان کا پورا مہر دینا کرو۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب التفسير/حدیث: 1896]
