Arabic (Original)
1864 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: ثُمَّ يُنْزِلُ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ البَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلاَّ يَبْلَى، إِلاَّ عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Between the two blasts of the Trumpet there are forty." Someone asked: "Forty days?" He said: "I decline to say." They asked: "Forty months?" He said: "I decline to say." They asked: "Forty years?" He said: "I decline to say." He then said: "Then Allah will send down water from the sky and they will sprout like vegetation grows. Every part of a person decays except the tailbone. From it the body will be reconstituted on the Day of Resurrection."
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس فاصلہ ہوگا۔“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے پوچھا:”کیا چالیس دن مراد ہیں؟“انہوں نے کہا کہ:”مجھے معلوم نہیں۔“پھر شاگردوں نے پوچھا:”کیا چالیس مہینے مراد ہیں؟“انہوں نے کہا کہ:”مجھے معلوم نہیں۔“شاگردوں نے پوچھا کہ:”کیا چالیس مراد ہیں؟“کہا کہ:”مجھے معلوم نہیں۔“کہا کہ:”پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا جس کی وجہ سے تمام مردے جی اٹھیں گے جیسے سبزیاں پانی سے اگ آتی ہیں۔ اس وقت انسان کا ہر حصہ گل چکا ہوگا سوائے ریڑھ کی ہڈی کے اور اس سے قیامت کے دن تمام مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1864]
