Arabic (Original)
1796 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ، كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَة السَّآمَةِ عَلَيْنَا
English Translation
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: He used to remind the people every Thursday. A man said to him: "O Abu Abd al-Rahman, I wish you would remind us every day." He said: "What prevents me from that is that I dislike to bore you. I choose appropriate times for admonition, just as the Prophet (peace be upon him) used to choose appropriate times for us, fearing that we might become weary."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ سنایا کریں۔ انہوں نے فرمایا: سنو! مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقاتِ فرصت کا خیال رکھتے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1796]
