Arabic (Original)
1760 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسانًا ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ فَأَتَى رَاهِبًا، فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: هَلْ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ: لاَ فَقَتَلَهُ فَجَعَلَ يَسْأَلُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: ائْتِ قَرْيَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَنَاءَ بِصَدْرِهِ نَحْوَهَا فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ فَأَوْحى اللهُ إِلَى هذِهِ: أَنْ تَقَرَّبِي وَأَوْحى اللهُ إِلَى هذِهِ: أَنْ تَبَاعَدِي وَقَالَ: قِيسُوا مَا بَيْنَهُمَا فَوُجِدَ إِلَى هذِهِ أَقْرَبَ بِشِبْرٍ، فَغُفِرَ لَهُ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Allah has one hundred portions of mercy. He sent down one portion among the jinn, mankind, animals, and reptiles. By it they show compassion and mercy to one another. By it, a wild animal is gentle with its young. Allah has reserved ninety-nine portions of mercy by which He will show mercy to His servants on the Day of Judgment."
Urdu Translation
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا (نام نامعلوم) جس نے ننانوے خون ناحق کیے تھے، پھر وہ (نادم ہو کر) مسئلہ پوچھنے نکلا۔ وہ ایک درویش کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: کیا اس گناہ سے توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت ہے؟ درویش نے جواب دیا کہ نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس درویش کو بھی قتل کر دیا (اور سو خون پورے کر دیے)، پھر وہ (دوسروں سے) پوچھنے لگا۔ آخر اس کو ایک درویش نے بتایا کہ فلاں بستی میں چلا جا (وہ آدھے راستے تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ) اس کی موت واقع ہو گئی۔ مرتے مرتے اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا۔ آخر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں باہم جھگڑا ہوا (کہ کون اسے لے جائے)، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نصرہ نامی بستی کو (جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا) حکم دیا کہ اس کی نعش سے قریب ہو جائے اور دوسری بستی کو (جہاں سے وہ نکلا تھا) حکم دیا کہ اس کی نعش سے دور ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ اب دونوں کا فاصلہ دیکھو اور (جب ناپا تو) اس بستی کو (جہاں وہ توبہ کے لیے جا رہا تھا) ایک بالشت نعش سے نزدیک پایا، اس لیے وہ بخش دیا گیا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1760]
