Arabic (Original)
1554 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بَالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمدَ اللهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: اللهُ الْمُسْتَعَانُ
English Translation
Narrated Abu Musa (may Allah be pleased with him): I was with the Prophet (peace be upon him) in one of the gardens of Madinah. A man came and asked to be let in. The Prophet (peace be upon him) said, "Open for him and give him the glad tidings of Paradise." I opened for him, and it was Abu Bakr. I gave him the glad tidings that the Prophet (peace be upon him) had mentioned, and he praised Allah. Then another man came and asked to be let in. The Prophet (peace be upon him) said, "Open for him and give him the glad tidings of Paradise." I opened for him, and it was 'Umar. I informed him of what the Prophet (peace be upon him) had said, and he praised Allah. Then another man asked to be let in, and he said to me, "Open for him and give him the glad tidings of Paradise along with a trial that will befall him." It was 'Uthman. I informed him of what the Messenger of Allah (peace be upon him) had said, and he praised Allah, then said, "Allah is the One Whose help is sought."
Urdu Translation
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ (بئر اریس) میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آکر دروازہ کھلوایا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔“میں نے دروازہ کھولا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے انہیں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے فرمانے کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی۔ پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا، حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے اس موقع پر بھی یہی فرمایا:”دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔“میں نے دروازہ کھولا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہیں بھی جب حضورصلی اللہ علیہ وسلمکے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا، ان کے لیے بھی حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں (دنیا میں) واسطہ پڑے گا۔“وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے، جب میں نے ان کو حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:«اَللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ»”اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1554]
