Arabic (Original)
1544 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاَةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبهَا فَضَرَبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهذَا؛ إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ فَذَهَبَ مِنْهَا بَشَاةٍ، فَطَلَبَ حَتَّى كَأَنَّهُ اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: هذَا، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ قَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ
English Translation
Narrated Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) offered the Fajr prayer, then faced the people and said, "While a man was driving a cow, he rode on it and beat it. The cow said, 'We were not created for this; we were created for plowing.' The people said, 'Glory be to Allah! A cow speaks!' He (peace be upon him) said, 'I believe in this — I, Abu Bakr, and 'Umar.' And they were not even present. And while a man was among his sheep, a wolf attacked and took a sheep. The man chased it and rescued the sheep. The wolf said to him, 'You rescued it from me today, but who will protect it on the day of the predators, when it will have no shepherd but me?' The people said, 'Glory be to Allah! A wolf speaks!' He said, 'I believe in this — I, Abu Bakr, and 'Umar.' And they were not even present."
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے صبح کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:”ایک شخص (بنی اسرائیل کا) اپنی گائے ہانکے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے (بقدرتِ الٰہی) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کیے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا:«سُبْحَانَ اللّٰهِ»”اللہ پاک ہے“! گائے بات کرتی ہے۔ پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی۔ حالانکہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہا دوڑا اور اس نے بکری کو بھیڑیے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا (بقدرتِ الٰہی) بولا: آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں (قربِ قیامت) اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہوگا؟ لوگوں نے کہا:«سُبْحَانَ اللّٰهِ»”اللہ پاک ہے“! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1544]
