Arabic (Original)
1462 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً أَتى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ، ثُمَ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبى أَنْتَ، وَاللهِ لَتَدَعَنِّي فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اعْبُرْ قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَالإِسْلاَمُ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطُفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآن، حَلاَوَتُهُ تَنْطِفُ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ؛ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوَصَّل لَهُ فَيَعْلُو بِهِ فَأَخْبِرْنِي، يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَاْتُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا وأَخطَأْتَ بَعْضًا قَالَ: فَوَاللهِ لَتُحَدِّثنِي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ: لاَ تُقْسِمْ
English Translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that a man came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "I saw last night in a dream a canopy dripping with ghee (clarified butter) and honey. I saw people scooping from it with their hands — some getting much and some getting little. And behold, there was a rope stretching from the earth to the sky. I saw you take hold of it and ascend. Then another man took hold of it and ascended. Then another man took hold of it and it broke, but it was reconnected and he ascended." Abu Bakr said: "O Messenger of Allah, let me interpret it." The Prophet said: "Interpret it." Abu Bakr said: "The canopy is the canopy of Islam, the ghee and honey dripping from it are the sweetness of the Quran — some getting much and some getting little. The rope stretching from the sky to the earth is the truth you are upon — you took hold of it and Allah raised you. Then a man will take it after you and ascend, then another man will take it and ascend, then another man will take it and it will break, then it will be reconnected and he will ascend." He asked: "O Messenger of Allah, am I right or wrong?" The Prophet said: "You got some of it right and some wrong." Abu Bakr said: "I ask you by Allah, tell me where I went wrong." The Prophet said: "Do not swear."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور اس نے کہا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، میں دیکھتا ہوں کہ لوگ انہیں اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں، کوئی زیادہ اور کوئی کم؛ اور ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ پہلے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے آ کر اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گئے، پھر ایک دوسرے صاحب نے بھی اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گئے، پھر ایک تیسرے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی چڑھ گئے، پھر چوتھے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعے چڑھ گئے۔ پھر وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے اجازت دیجیے میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بیان کرو۔“انہوں نے کہا، سایہ سے مراد دین اسلام ہے اور جو شہد اور گھی ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید کی شیرینی ہے اور بعض قرآن کو زیادہ حاصل کرنے والے ہیں، بعض کم؛ اور آسمان سے زمین تک کی رسی سے مراد وہ سچا طریق ہے جس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمقائم ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلماسے پکڑے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ذریعے اللہ آپ کو اٹھا لے گا۔ پھر آپ کے بعد ایک دوسرے صاحب اسے پکڑیں گے وہ بھی مرتے دم تک اس پر قائم رہیں گے، پھر تیسرے صاحب پکڑیں گے ان کا بھی یہی حال ہوگا، پھر چوتھے صاحب پکڑیں گے تو ان کا معاملہ خلافت کا کٹ جائے گا وہ بھی اوپر چڑھ جائیں گے۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتائیے کہ میں نے جو تعبیر دی ہے وہ غلط ہے یا صحیح؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بعض حصہ کی صحیح تعبیر دی ہے اور بعض کی غلط۔“سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پس«وَاللہِ»”اللہ کی قسم!“آپ میری غلطی کو ظاہر فرما دیں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”قسم نہ کھاؤ۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرؤيا/حدیث: 1462]
