Arabic (Original)
1386 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: مَا فَعَل ابْني قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَتْ: وَارِ الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَمَعَهُ شَيْءٌ قَالُوا: نَعَمْ، تَمَرَاتٌ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيهِ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، وَحَنَّكَهُ بِهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) said: Abu Talhah had a son who was ill. Abu Talhah went out, and the boy died. When Abu Talhah returned, he asked: "How is my son?" Umm Sulaym said: "He is more at rest than he has ever been." She offered him supper and he ate, then he was intimate with her. When he finished, she said: "Bury the boy." In the morning, Abu Talhah went to the Messenger of Allah (peace be upon him) and told him what happened. He asked: "Did you have relations last night?" He said: "Yes." The Prophet said: "O Allah, bless them both." She gave birth to a boy, and Abu Talhah said to me (Anas): "Take care of him until you bring him to the Prophet (peace be upon him)." He brought him to the Prophet (peace be upon him), and she sent some dates with him. The Prophet (peace be upon him) took the child and said: "Is there anything with him?" They said: "Yes, some dates." The Prophet (peace be upon him) took them, chewed them, took some from his mouth, put it in the baby's mouth, did tahnik for him, and named him Abdullah.
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ (تھکے ماندے) واپس آئے تو پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ ان کی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ سکون کے ساتھ ہے، پھر بیوی نے ان کے سامنے رات کا کھانا رکھا اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے ساتھ ہم بستری کی، پھر جب فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ بچہ کو دفن کر دو۔ صبح ہوئی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکو واقعہ کی اطلاع دی۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”تم نے رات ہم بستری بھی کی تھی؟“انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے دعا کی:«اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا»”اے اللہ! ان دونوں کو برکت عطا فرما۔“پھر ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو مجھ سے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے حفاظت کے ساتھ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں لے جاؤ۔ چنانچہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں لائے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ کے ساتھ کچھ کھجوریں بھیجیں۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے بچہ کو لیا اور دریافت فرمایا:”اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟“لوگوں نے کہا کہ جی ہاں کھجوریں ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے لے کر چبایا اور پھر اسے اپنے منہ میں سے نکال کر بچہ کے منہ میں رکھ دیا اور اس سے بچہ کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1386]
