Arabic (Original)
1378 صحيح حديث مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ، عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ، وَكَانَتْ فِي يَدَيْ حَرَسِيٍّ فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْهى عَنْ مِثْلِ هذِهِ، وَيَقُولُ: إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ
English Translation
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "No calamity befalls a Muslim — not even a thorn prick — except that Allah expiates some of his sins because of it."
Urdu Translation
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا، جس سال وہ حج کے لیے گئے ہوئے تھے، انہوں نے منبرِ نبوی پر کھڑے ہو کر«قُصَّةٌ»”پیشانی کے بالوں کا ایک گچھا“لیا جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھا اور فرمایا: اے مدینہ والو! تمہارے علما کدھر گئے (یعنی کیا تم کو منع کرنے والے علما ختم ہو گئے)؟ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس طرح (بال جوڑنے) کی ممانعت فرمائی تھی اور فرمایا تھا:”بنی اسرائیل پر بربادی اس وقت آئی جب (شریعت کے خلاف) ان کی عورتوں نے اس طرح بال سنوارنے شروع کر دیے تھے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1378]
