Arabic (Original)
1322 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ، رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي، فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جِرَابًا، فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ، فَذَبَحْتُهَا، وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي وَقَطّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لاَ تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَنْ مَعَهُ فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ؛ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، كَانَ عِنْدَنَا، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا، فَحَيَّ هَلاً بِكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ، وَلاَ تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ فَجِئْتُ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْدُمُ النَّاسَ، حَتَّى جِئْتُ امْرأَتِي فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا، فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ: ادْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعِي، وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلاَ تُنْزِلُوهَا وَهُمْ أَلْفٌ فَأَقْسِمُ بِاللهِ لقَدْ أَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَعِطُّ كَمَا هِيَ، وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيخْبَزُ كَمَا هُوَ
English Translation
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) prohibit blowing into drinks. A man said: "O Messenger of Allah, sometimes I see flotsam in my vessel." He said: "Pour it away." He said: "I cannot quench my thirst in one breath." He said: "Then remove the vessel from your mouth (and breathe aside)."
Urdu Translation
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو میں نے معلوم کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمانتہائی بھوک میں مبتلا ہیں۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا:”کیا تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میرا خیال ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمانتہائی بھوکے ہیں۔“میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائیں جس میں ایک صاع جو تھے، گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو چکی میں پیسے۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا تو وہ بھی جو پیس چکی تھیں، میں نے گوشت کی بوٹیاں کر کے ہانڈی میں رکھ دیں اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا، چنانچہ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کر لیا ہے اور ایک صاع جو پیس لیے ہیں جو ہمارے پاس تھے، اس لیے آپ دو ایک صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے بہت بلند آواز سے فرمایا:”اے اہل خندق! جابر (رضی اللہ عنہ) نے تمہارے لیے کھانا تیار کروایا ہے۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو۔“اس کے بعد نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب تک میں آ نہ جاؤں ہانڈی چولہے پر سے نہ اتارنا اور نہ آٹے کی روٹی پکانی شروع کرنا۔“میں اپنے گھر آیا، ادھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمبھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں، میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے عرض کر دیا تھا۔ آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اس میں اپنے لعابِ دہن مبارک کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کی۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعابِ مبارک کی آمیزش کی اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اب روٹی پکانے والی کو بلاؤ، وہ میرے سامنے روٹی پکائے اور گوشت ہانڈی سے نکالے لیکن چولہے سے ہانڈی نہ اتارنا۔“صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی، میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے (شکم سیر ہو کر) کھایا اور کھانا بچ بھی گیا۔ جب تمام لوگ واپس ہو گئے تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی، جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1322]
