Arabic (Original)
1318 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي دَارِنَا هذِهِ، فَاسْتَسْقَى، فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً لَنَا، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا هذِهِ، فَأَعْطَيْتُهُ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَعُمَرُ تُجَاهَهُ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ عُمَرُ: هذَا أَبُو بَكْرٍ فَأَعْطَى الأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ: الأَيْمَنُونَ، الأَيْمَنُونَ، أَلاَ فَيَمِّنُوا قَالَ أَنَسٌ: فَهِيَ سُنَّةٌ، فَهِيَ سُنَّةٌ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every intoxicant is wine, and every intoxicant is prohibited."
Urdu Translation
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمہمارے اسی گھر میں تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ ہمارے پاس ایک بکری تھی، اسے ہم نے دوہا۔ پھر میں نے اس میں اسی کنویں کا پانی ملا کر آپصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں (لسی بنا کر) پیش کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے تھے اور ایک دیہاتی آپ کے دائیں طرف تھا۔ جب آپصلی اللہ علیہ وسلمپی کر فارغ ہوئے تو پیالے میں کچھ دودھ بچ گیا تھا، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے دیہاتی کو عطا فرمایا (کیونکہ وہ دائیں طرف تھا)، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”دائیں طرف بیٹھنے والے، دائیں طرف بیٹھنے والے ہی حق رکھتے ہیں۔ پس خبردار! دائیں طرف ہی سے شروع کیا کرو۔“سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی سنت ہے، یہی سنت ہے۔ تین مرتبہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس بات کو دہرایا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1318]
