Arabic (Original)
13 صحيح حديث أَبي بَكْر وَعُمَر قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَمّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكانَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَب، فَقالَ عُمَرُ رضي الله عنه: كَيْفَ تُقاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقاتِلَ النَّاسَ حَتّى يَقُولوا لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ، فَمَنْ قالَها فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ، وَحِسابُهُ عَلى اللهِ فَقالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لأُقاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكاةِ، فَإِنَّ الزَّكاةَ حَقُّ الْمالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُوني عَناقًا كَانوا يُؤَدُّونَها إِلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقاتَلْتُهُمْ عَلى مَنْعِها قالَ عُمَر رضي الله عنه: فَواللهِ ما هُوَ إِلاَّ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَ أَبي بَكْرٍ رضي الله عنه فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) said: When the Messenger of Allah (peace be upon him) passed away and Abu Bakr (may Allah be pleased with him) became caliph, some of the Arabs apostatized. Umar said: "How can you fight the people when the Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah. Whoever says it has protected his wealth and his life from me, except by its right, and his account is with Allah'?" Abu Bakr said: "By Allah, I will fight anyone who differentiates between prayer and zakat, for zakat is the right of wealth. By Allah, if they withhold even a young goat that they used to give to the Messenger of Allah (peace be upon him), I will fight them for withholding it." Umar said: "By Allah, it was nothing but that Allah had opened Abu Bakr's heart to it, and I realized that he was right."
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمفوت ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے (اور کچھ نے زکاۃ سے انکار کر دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں کہ”مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“کی شہادت نہ دے دیں اور جو شخص اس کی شہادت دے دے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا سوائے اسی کے حق کے (یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے) اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہو گا“؟ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکاۃ اور نماز میں تفریق کرے گا (یعنی نماز تو پڑھے مگر زکاۃ کے لیے انکار کر دے) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم! اگر انہوں نے زکاۃ میں چار مہینے کے بچے کے دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا! یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 13]
