Arabic (Original)
1211 صحيح حديث حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللهُ بِهذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ: نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ قَالَ: قَوْمٌ يَهْدُونَ بَغَيْرِ هَدْيي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ، دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا فَقَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذلِكَ
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Banu Isra'il used to be governed by prophets; whenever a prophet died, another succeeded him. But there will be no prophet after me. There will be caliphs, and they will be many." They said: "What do you command us?" He said: "Fulfill the pledge of allegiance to the first, then the next. Give them their rights, for Allah will ask them about what He entrusted them with."
Urdu Translation
ابو ادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہیں میں اس میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سوال کیا، یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی) عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں۔“میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ نے فرمایا:”ہاں، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا۔“میں نے عرض کیا، وہ دھواں کیا ہوگا؟ آپ نے جواب دیا:”ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور میرے طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے، ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔“میں نے سوال کیا، کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ بھی آئے گا؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجیے۔ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے، ہماری ہی زبان بولیں گے۔“میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے تابع رہنا۔“میں نے عرض کیا، اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ نے فرمایا:”پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا، اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو۔“(تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہوگا)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1211]
