Arabic (Original)
1187 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ بِهِ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلاً رَامِيًا شَدِيدَ الْقِدِّ يَكْسِرُ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا وَكَانَ الرُّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ، فَيَقُولُ: انْشُرْهَا، لأَبِي طَلْحَةَ فَأَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: يَا نَبِيَّ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لاَ تُشْرِفْ، يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِك وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ، وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ، أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا، تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ، إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلاَثًا
English Translation
Narrated Anas (may Allah be pleased with him): On the day of Uhud, the people fled from the Prophet (peace be upon him), but Abu Talhah stood before the Prophet (peace be upon him), shielding him with a leather shield. Abu Talhah was a strong archer who would break two or three bows that day. When a man would pass by carrying a quiver of arrows, the Prophet (peace be upon him) would say: "Spread them out for Abu Talhah." When the Prophet (peace be upon him) raised his head to look at the enemy, Abu Talhah would say: "O Prophet of Allah, may my father and mother be your ransom, do not raise your head lest an arrow from the enemy strikes you. My chest before yours." I saw Aisha bint Abi Bakr and Umm Sulaym with their garments tucked up — I could see their anklets — carrying water skins on their backs, pouring water into the mouths of the people, then going back to fill them and returning to pour again. The sword fell from Abu Talhah's hands two or three times.
Urdu Translation
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر جب صحابہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے قریب سے ادھر ادھر ہونے لگے تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی ایک ڈھال سے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی حفاظت کر رہے تھے۔ سیدنا ابو طلحہ بڑے تیر انداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں، اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمفرماتے:”اس کے تیر ابو طلحہ کو دے دو۔“آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمحالات معلوم کرنے کے لیے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: یا نبی اللہ! آپ پر میرے ماں اور باپ قربان ہوں، رُک کر ملاحظہ نہ فرمائیں، کہیں کوئی تیر آپصلی اللہ علیہ وسلمکو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے سینے کی ڈھال بنا رہا۔ میں نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما اور ام سلیم (ابو طلحہ کی بیوی) کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے تھیں، (غازیوں کی مدد میں) بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں۔ (اس خدمت میں ان کو انہماک و استغراق کی وجہ سے کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کر لے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابو طلحہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1187]
