Arabic (Original)
1172 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ؛ إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَيُّكُمْ يَجِىءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنَعَةٌ قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رأْسَهُ حَتَّى جَاءَتهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ قَالَ: وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ثُمَّ سَمَّى: اللهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِين عَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ، قَلِيبِ بَدْرٍ
English Translation
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (peace be upon him) was praying near the Ka'bah while Abu Jahl and his companions were sitting nearby. One of them said to the others: "Who will bring the abdominal contents of a slaughtered camel of such and such tribe and place it on Muhammad's back when he prostrates?" The most wretched of the people got up and brought it. He waited until the Prophet (peace be upon him) prostrated, then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could do nothing — I had no protectors. They started laughing, leaning on one another, while the Messenger of Allah (peace be upon him) remained in prostration, not raising his head, until Fatimah came and threw it off his back. He raised his head and then said: "O Allah, deal with Quraysh" — three times. That distressed them greatly.
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی (بھی وہیں) بیٹھے ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جو فلاں قبیلے کی (جو) اونٹنی ذبح ہوئی ہے (اس کی) اوجھڑی اٹھا کر لائے اور (لاکر) جب محمدصلی اللہ علیہ وسلمسجدہ میں جائیں تو ان کی پیٹھ پر رکھ دے۔ یہ سن کر ان میں سے ایک سب سے زیادہ بدبخت (آدمی) اٹھا اور وہ اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا، جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپصلی اللہ علیہ وسلمکے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں یہ (سب کچھ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ کاش! (اس وقت) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور (ہنسی کے مارے) ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسجدے میں تھے (بوجھ کی وجہ سے) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بوجھ آپصلی اللہ علیہ وسلمکی پیٹھ پر سے اتار کر پھینکا، تب آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا:«اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ»”اے اللہ! تو قریش کو پکڑ لے۔“یہ (بات) ان کافروں پر بہت بھاری ہوئی کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں بددعا دی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر (مکہ) میں جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے (ان میں سے) ہر ایک کا (جدا جدا) نام لیا:«اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ»”اے اللہ! تو ابوجہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو (ہلاک کر دے)۔“ساتویں (آدمی) کا نام (بھی) لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جن لوگوں کے (بدعا کرتے وقت) آپصلی اللہ علیہ وسلمنے نام لیے تھے، میں نے ان کی (لاشوں) کو بدر کے کنویں میں پڑا ہوا دیکھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1172]
