Arabic (Original)
1150 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ، ابْنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ قَالَتْ: وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ، وَصَدَقَتِهِ ُ بَالْمَدِينَةِ فَأَبى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ، فَإِنِّي أَخْشى، إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ، أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ، وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ كَانتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ فَهُمَا عَلَى ذلِكَ إِلَى الْيَوْمِ
English Translation
Narrated Aisha, the Mother of the Believers (may Allah be pleased with her): Fatimah (peace be upon her), the daughter of the Messenger of Allah (peace be upon him), asked Abu Bakr al-Siddiq after the death of the Messenger of Allah (peace be upon him) to distribute to her what the Messenger of Allah (peace be upon him) had left behind from what Allah had bestowed upon him. Abu Bakr said to her: "The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'We are not inherited from; what we leave is charity.'" Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah (peace be upon him), became angry and abandoned Abu Bakr, and she continued to shun him until she passed away. She lived six months after the Messenger of Allah (peace be upon him). She said: Fatimah used to ask Abu Bakr for her share of what the Messenger of Allah (peace be upon him) had left from Khaybar, Fadak, and his charity in Medina. Abu Bakr refused her that and said: "I will not abandon anything that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to do except that I will do it, for I fear that if I abandon anything of his commands, I will deviate." As for his charity in Medina, Umar handed it over to Ali and Abbas. As for Khaybar and Fadak, Umar retained them and said: "They are the charity of the Messenger of Allah (peace be upon him), designated for his responsibilities and needs. Their management belongs to whoever holds authority." They remain on that basis to this day.
Urdu Translation
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکی وفات کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تھا کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمکے اس ترکہ سے انہیں ان کی میراث کا حصہ دلایا جائے جو اللہ تعالیٰ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو ’فے‘ کی صورت میں دیا تھا۔ (جیسے فدک وغیرہ) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے (اپنی حیات میں) فرمایا تھا:”ہمارا (گروہ انبیاء کا) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔“سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر غصہ ہو گئیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ترک ملاقات کی اور وفات تک ان سے نہ ملیں۔ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے بعد چھ مہینے زندہ رہی تھیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے خیبر، فدک اور مدینہ کے صدقے کی وراثت کا مطالبہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی ایسے عمل کو نہیں چھوڑ سکتا جسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماپنی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ میں ہر ایسے عمل کو ضرور کروں گا۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکا کوئی بھی عمل چھوڑا تو میں حق سے منحرف ہو جاؤں گا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ) پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا مدینہ کا جو صدقہ تھا وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کو (اپنے عہد خلافت میں) دے دیا۔ البتہ خیبر اور فدک کی جائیداد کو عمر رضی اللہ عنہ نے روک رکھا اور فرمایا کہ یہ دونوں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا صدقہ ہیں اور ان حقوق کے لیے جو وقتی طور پر پیش آتے یا وقتی حادثات کے لیے رکھی تھیں۔ یہ جائیدادیں اس شخص کے اختیار میں رہیں گی جو خلیفہ وقت ہو۔ (زہری نے کہا) چنانچہ ان دونوں جائیدادوں کا انتظام آج تک (بذریعہ حکومت) اسی طرح ہوتا چلا آتا ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1150]
