Arabic (Original)
1113 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ فِي بَيْتٍ أَوْ فِي الْحُجْرَةِ، فَخَرَجَتْ إِحْداهُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بإِشْفًا فِي كَفِّهَا، فَادَّعَتْ عَلَى الأُخْرَى، فَرُفِعَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بدَعْوَاهُمْ لَذَهَبَ دِمَاءُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُهُمْ ذَكِّرُوهَا بِاللهِ، وَاقْرَءُوا عَلَيْهَا(إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ)فَذَكَّرُوهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
English Translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: Two women were stitching leather in a house or a room. One of them came out with an awl pierced into her hand. She accused the other woman. The case was brought to Ibn Abbas, who said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If people were given what they claimed, the blood and wealth of many people would be taken unjustly." Then he said: "Remind her of Allah and recite to her (the verse): 'Indeed, those who exchange the covenant of Allah...'" They reminded her and she confessed. Ibn Abbas said: The Prophet (peace be upon him) said: "The oath is upon the defendant."
Urdu Translation
دو عورتیں کسی گھر یا حجرہ میں بیٹھ کر موزے بنایا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک عورت باہر نکلی تو اس کے ہاتھ میں موزے سینے کا سوا چبھو دیا گیا تھا۔ اس نے دوسری عورت پر دعویٰ کیا۔ یہ مقدمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تھا:”اگر صرف دعویٰ کی وجہ سے لوگوں کا مطالبہ مان لیا جانے لگے تو بہت سوں کا خون اور مال برباد ہو جائے گا۔“جب گواہ نہیں ہے تو دوسری عورت کو جس پر یہ الزام ہے، اللہ سے ڈراؤ اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھو:﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾[سورة آل عمران: 77]، چنانچہ جب لوگوں نے اسے اللہ سے ڈرایا تو اس نے اقرار کر لیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا ہے:”قسم مدعی علیہ پر ہے۔“اگر وہ جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کرے گا تو اس کو اس وعید کا مصداق قرار دیا جائے گا جو آیت میں بیان کی گئی ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأقضية/حدیث: 1113]
