Arabic (Original)
1086 صحيح حَدِيث أَنَسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَفَلاَ تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ، فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا" قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are angels who roam the roads seeking the people of dhikr (remembrance of Allah). When they find a group remembering Allah, they call one another: 'Come to what you seek!' They surround them with their wings up to the lowest heaven." He narrated the complete hadith in which Allah asks the angels about His servants, and at the end says: "I bear witness before you that I have forgiven them." An angel says: "Among them is so-and-so who was not one of them; he only came for some need." He says: "They are the companions — whoever sits with them shall not be wretched."
Urdu Translation
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کی شکایت کی۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے فرمایا:”پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔“انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے، پھر انہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے چرواہے کو قتل کر دیا اور جانور ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے حکم دیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں، پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا گیا اور آخر وہ مر گئے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1086]
